ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے عالمی اقتصادی فورم میں خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اگلے 5 سال میں نہ صرف اپنی موجودہ صلاحیتوں سے آگے بڑھ سکتی ہے بلکہ پوری انسانیت سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس تیز رفتار ٹیکنالوجی کی ترقی اور روبوٹکس میں ممکنہ انقلابی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی۔
یہ بھی پڑھیں:اے آئی تعصب پر تحقیق: چیٹ جی پی ٹی آمرانہ خیالات اپنا سکتا ہے
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایلون مسک نے بلیک راک کے سی ای او لیری فنک کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ کمپیوٹر سسٹمز اور مختلف صنعتوں میں تیار شدہ ذہین سافٹ وئیر کی ترقی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ اگلے سال یا اس سال کے دوسرے نصف میں AI ممکنہ طور پر انسانی قابلیت سے آگے بڑھ سکتی ہے۔
مسک نے وضاحت کی کہ AI کی ترقی مرحلہ وار ہوگی اور اگلے 10 سال میں واضح مراحل میں بڑھتی رہے گی، جس کی رفتار زیادہ تر لوگ سمجھ نہیں پاتے، تاہم عالمی معیشت میں اس کے اثرات بہت جلد نظر آئیں گے۔
TESLA Optimus Cook and Waiter — Would You Trust Food Made by a Robot? pic.twitter.com/Vbvyxy81Ru
— TESLA CARS ONLY⚡️ (@teslacarsonly) January 23, 2026
مسک نے روبوٹکس میں پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیسلا کے ہیومینوڈ روبوٹز، جنہیں ’آپٹیمس‘ کہا جاتا ہے، پہلے ہی فیکٹریوں میں معمول کے کام انجام دے رہے ہیں اور سال کے آخر تک یہ زیادہ پیچیدہ کام بھی کر سکیں گے۔
انہوں نے پیشگوئی کی کہ یہ ہیومینوڈ روبوٹز اگلے سال مارکیٹ میں عام صارفین کے لیے دستیاب ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ حفاظت، اعتماد اور افادیت کے اعلیٰ معیار پورے کیے جائیں۔
Tesla $TSLA just said its humanoid robot “Optimus” is now autonomously navigating daily in its office & labs
Tesla said two Optimus bots have also been performing tasks in the factory, “all on their own”pic.twitter.com/CdHVS6Q9Xo
— Evan (@StockMKTNewz) December 31, 2024
مسک نے یہ بھی کہا کہ وقت کے ساتھ صارفین روبوٹز سے تقریباً ہر قسم کا کام کروانے کی توقع رکھ سکتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے ٹیسلا کی گاڑیوں کے لیے کیا جاتا ہے۔













