5 سال میں مصنوعی ذہانت انسانی سوچ بھی آگے بڑھ جائے گی، ایلون مسک کا پیشگوئی

ہفتہ 24 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے عالمی اقتصادی فورم میں خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اگلے 5 سال میں نہ صرف اپنی موجودہ صلاحیتوں سے آگے بڑھ سکتی ہے بلکہ پوری انسانیت سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس تیز رفتار ٹیکنالوجی کی ترقی اور روبوٹکس میں ممکنہ انقلابی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی۔

یہ بھی پڑھیں:اے آئی تعصب پر تحقیق: چیٹ جی پی ٹی آمرانہ خیالات اپنا سکتا ہے

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایلون مسک نے بلیک راک کے سی ای او لیری فنک کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ کمپیوٹر سسٹمز اور مختلف صنعتوں میں تیار شدہ ذہین سافٹ وئیر کی ترقی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ اگلے سال یا اس سال کے دوسرے نصف میں AI ممکنہ طور پر انسانی قابلیت سے آگے بڑھ سکتی ہے۔

مسک نے وضاحت کی کہ AI کی ترقی مرحلہ وار ہوگی اور اگلے 10 سال میں واضح مراحل میں بڑھتی رہے گی، جس کی رفتار زیادہ تر لوگ سمجھ نہیں پاتے، تاہم عالمی معیشت میں اس کے اثرات بہت جلد نظر آئیں گے۔

مسک نے روبوٹکس میں پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیسلا کے ہیومینوڈ روبوٹز، جنہیں ’آپٹیمس‘ کہا جاتا ہے، پہلے ہی فیکٹریوں میں معمول کے کام انجام دے رہے ہیں اور سال کے آخر تک یہ زیادہ پیچیدہ کام بھی کر سکیں گے۔

انہوں نے پیشگوئی کی کہ یہ ہیومینوڈ روبوٹز اگلے سال مارکیٹ میں عام صارفین کے لیے دستیاب ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ حفاظت، اعتماد اور افادیت کے اعلیٰ معیار پورے کیے جائیں۔

مسک نے یہ بھی کہا کہ وقت کے ساتھ صارفین روبوٹز سے تقریباً ہر قسم کا کام کروانے کی توقع رکھ سکتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے ٹیسلا کی گاڑیوں کے لیے کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp