گل پلازہ میں ہونے والی ہولناک آتشزدگی کے واقعے پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں واقعے کو ’غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ‘ قرار دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ آتشزدگی 17 جنوری کی شب گل پلازہ میں بھڑکی تھی، جس پر قابو پانے میں تقریباً دو روز لگے۔ آتشزدگی کے نتیجے میں گراؤنڈ پلس تین منزلہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا، متعدد حصے منہدم ہو گئے جبکہ اب تک 71 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ساؤتھ زون کے ڈی آئی جی سید اسد رضا نے تصدیق کی ہے کہ مقدمہ ریاست کی مدعیت میں پولیس افسر کے ذریعے درج کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گل پلازہ کی عمارت سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جاری، اہم انکشافات سامنے آگئے
درج ایف آئی آر کے مطابق تھانہ نبی بخش کے ایس ایچ او انسپکٹر نواز علی زرداری نے بتایا کہ پولیس کو 17 جنوری کو رات تقریباً 10 بج کر 30 منٹ پر گل پلازہ میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ آگ تیزی سے پھیلی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی ٹیمیں آگ بجھانے میں مصروف تھیں۔
ایف آئی آر کے مطابق آگ پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر واقع دکان نمبر 193، جو پھولوں اور تحائف کی دکان تھی، سے بھڑکی اور تیزی سے پورے شاپنگ پلازہ میں پھیل گئی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آرٹس کونسل کراچی میں سانحہ گل پلازہ کے شہداء کی یاد میں دعائیہ تقریب، شمعیں روشن
پولیس نے سانحے کی بڑی وجوہات میں فائر فائٹنگ آلات کی عدم موجودگی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب انتظامات نہ ہونے کو قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پلازہ میں ایمرجنسی ایگزٹس موجود نہیں تھے جبکہ بجلی بند ہونے کے باعث اندر موجود افراد کے انخلا میں شدید مشکلات پیش آئیں۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ انہی وجوہات کی بنا پر قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور بھاری مالی نقصان بھی ہوا۔
یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 322، 337-H(i)، 436 اور 427 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق تاحال کسی شخص کو نامزد نہیں کیا گیا اور مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔












