انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے 2026 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی سی سی نے جمعہ کی شام بی سی بی کو ای میل کے ذریعے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ اس سے قبل بی سی بی نے آئی سی سی کو بتایا تھا کہ بنگلہ دیشی حکومت نے 7 فروری سے شروع ہونے والے ٹورنامنٹ کے لیے بھارت جانے کی اجازت نہیں دی۔
مزید پڑھیں: پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں اس کا فیصلہ حکومت کرےگی، چیئرمین پی سی بی
بی سی بی نے جمعرات کو آئی سی سی سے رابطے میں معاملہ آئی سی سی کی ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی (ڈی آر سی) میں لے جانے کی خواہش بھی ظاہر کی تھی۔
یہ فیصلہ اس وقت حتمی شکل اختیار کر گیا جب آئی سی سی بورڈ نے بدھ کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہنگامی اجلاس منعقد کیا، جس میں اکثریتی ڈائریکٹرز نے اس حق میں ووٹ دیا کہ اگر بنگلہ دیش بھارت میں کھیلنے پر آمادہ نہیں ہوتا اور اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کے مطالبے پر قائم رہتا ہے تو اسے ٹورنامنٹ سے باہر کردیا جائے۔
اجلاس کے بعد جاری بیان میں آئی سی سی نے کہا کہ ٹورنامنٹ کے آغاز میں اتنا کم وقت رہ جانے کے باعث شیڈول میں تبدیلی قابل عمل نہیں ہے۔
آئی سی سی بورڈ کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت میں ٹیموں کے لیے کسی قابل اعتبار سیکیورٹی خطرے کے بغیر شیڈول میں ردوبدل مستقبل کے آئی سی سی ایونٹس کے کو نقصان پہنچانے اور عالمی گورننگ باڈی کے طور پر اس کی غیرجانبداری کو متاثر کرنے کی ایک مثال قائم کر سکتا ہے۔
آئی سی سی بورڈ نے بی سی بی کو جمعرات تک کی مہلت دی تھی کہ وہ بنگلہ دیشی حکومت سے مشاورت کے بعد موجودہ ٹی20 ورلڈ کپ شیڈول کے مطابق بھارت جانے یا نہ جانے کا فیصلہ کرے۔
بنگلہ دیش کو گروپ سی میں شامل کیا گیا تھا اور اسے اپنے ابتدائی 3 میچ کولکتہ جبکہ چوتھا میچ ممبئی میں کھیلنا تھا۔ تاہم جمعرات کو بنگلہ دیشی حکومت اور بی سی بی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ٹیم بھارت کا سفر نہیں کرے گی۔
بی سی بی کے صدر امین الاسلام نے اس صورتحال میں آئی سی سی پر دُہرے معیار کا الزام عائد کیا اور کہاکہ آئی سی سی نے اس معاملے کو اس انداز میں نہیں دیکھا جیسے اس نے 2025 چیمپیئنز ٹرافی کے لیے بھارتی کرکٹ بورڈ کے پاکستان جانے سے انکار کے معاملے کو دیکھا تھا۔
واضح رہے کہ سیکیورٹی کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے 3 جنوری کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت کی کہ وہ 2026 آئی پی ایل اسکواڈ سے بنگلہ دیشی کرکٹر مصطفیٰ ظہور کو باہر کر دیں۔
اگرچہ اس ہدایت کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی، تاہم یہ فیصلہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان بگڑتے تعلقات کے تناظر میں سامنے آیا۔ 4 جنوری کو بی سی بی نے حکومتی مشاورت کے بعد آئی سی سی کو خط لکھا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث بنگلہ دیشی ٹیم اپنے ٹی20 ورلڈ کپ میچز کے لیے بھارت کا سفر نہیں کرے گی، اور بعد کی متعدد بات چیت میں بھی اسی مؤقف پر قائم رہی۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کیخلاف ٹی20 سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان، کن اہم کھلاڑیوں کی واپسی ہوئی؟
تاہم آئی سی سی نے مصطفیٰ ظہور کے معاملے کو جائز سیکیورٹی خدشہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ بی سی بی بار بار ٹورنامنٹ میں شرکت کو ایک واحد، الگ تھلگ اور غیر متعلقہ واقعے سے جوڑ رہا ہے، جو اس کے ایک کھلاڑی کی ڈومیسٹک لیگ میں شمولیت سے متعلق ہے۔
آئی سی سی کے مطابق اس معاملے کا ٹی20 ورلڈ کپ کے سیکیورٹی فریم ورک یا شرکت کی شرائط سے کوئی تعلق نہیں۔













