افغانستان کی ایک انسانی حقوق تنظیم نے طالبان کے نئے فوجداری ضابطے کو افغان عدالتی نظام میں نافذ کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ نے حال ہی میں فوجداری مقدمات کے نئے طریقہ کار کی منظوری دی ہے اور اس ضابطے کو ملک بھر کے عدالتی اداروں میں نافذ کرنے کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی فوجداری عدالت نے افغان طالبان کے امیر اور چیف جسٹس کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے
انسانی حقوق کی تنظیم رواداری نے کہا ہے کہ یہ ضابطہ اقلیتی طبقات کے خلاف امتیازی سلوک کو قانونی شکل دیتا ہے اور اس سے بنیادی انسانی آزادیوں پر شدید قدغنیں لگتی ہیں۔ تنظیم کے مطابق نئے ضابطے میں بلا وجہ گرفتاری اور غیر منصفانہ سزاؤں کی راہ ہموار کرنے والی شقیں شامل ہیں، جو عدالتی نظام کو بے رحمانہ اور غیر شفاف بنا دیتی ہیں۔
Press Release Regarding the Implications of the “The Criminal Procedure Code for Courts” Issued by the Taliban
Rawadari has recently obtained a copy of the “Criminal Procedure Code for Courts” (De Mahakumu Jazaai Osulnama) signed by the Taliban leader, Habatullah Akhundzada, and… pic.twitter.com/KJRf83fOy0
— Rawadari رواداری (@rawadari_org) January 22, 2026
انسانی حقوق گروپ نے مزید کہا کہ یہ قانون بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے منافی ہے، کیونکہ اس میں ملزم کو وکیل رکھنے، خاموش رہنے یا ہرجانے کا حق دینے جیسی بنیادی ضمانتیں موجود نہیں ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ منصفانہ سماعت کے لیے ضروری دیگر حفاظتی اقدامات بھی اس ضابطے میں شامل نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: طالبان کا نیا قانون: رومانوی شاعری اور رہنما پر تنقید پر پابندی
رواداری نے خدشہ ظاہر کیا کہ ضابطے کی کچھ شقیں مخالفین کے خلاف غیر قانونی قتل کے امکانات بڑھا سکتی ہیں، اور اس میں طالبان پر تنقید کو جرم قرار دینے کی شق شامل ہے، جو آزادی اظہار پر پابندی ہے۔
تنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نئے فوجداری ضابطے میں سماجی طبقات اور غلامی کے تصور کو فروغ دینے والی شقیں موجود ہیں، جبکہ خواتین اور بچوں کے خلاف نفسیاتی اور جنسی تشدد کے معاملات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق ضابطے کی امتیازی دفعات افغانستان میں اقلیتوں کو مزید خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: طالبان کے بین الاقوامی احتساب کا مطالبہ کیوں کیا گیا؟
انسانی حقوق گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ اس ضابطے کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور اس کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے تاکہ انسانی حقوق کے عالمی معیارات کو مدنظر رکھا جا سکے۔













