وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک میں نئے صوبے بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں اور کسی کو اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
لاہور میں تھنک فیسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کے قیام سے ملک کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
مزید پڑھیں: نئے صوبے ملک کے مفاد میں ہیں، مخالفت کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا، عبدالعلیم خان
خواجہ آصف نے 27 ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس میں دو شقیں ڈراپ کی گئی تھیں، جن میں سے ایک لوکل گورنمنٹ سے متعلق تھی جس پر کئی اعتراضات تھے۔
انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کو خطرے کے بجائے ایک نرسری کے طور پر سمجھنا چاہیے، اور دنیا میں نیویارک کے میئر ممدانی اس کی ایک بڑی مثال ہیں۔
وزیر دفاع نے زور دیا کہ پاکستان کی بقا لوکل گورنمنٹ کے مضبوط نظام میں مضمر ہے، اور اگر اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے گئے تو یہ عوام کے ساتھ دھوکہ کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم نے تو اختیارات کی تقسیم کی گارنٹی دی تھی، لیکن یہ عملی طور پر ممکن نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے انہوں نے اسے ’ڈھکوسلا‘ قرار دیا۔
خواجہ آصف نے مزید کہاکہ سیاستدان اگر اپنی طاقت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو انہیں گلی محلوں کے عوام سے توثیق حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ تینوں بڑے ڈکٹیٹروں نے بھی لوکل گورنمنٹ کے ذریعے اپنے اختیارات کو مضبوط کیا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ سیاستدانوں کو لمبی مدت کے لیے اقتدار نہیں مل سکا، لیکن ڈکٹیٹرز نے اختیارات کو نیچے تک منتقل کر کے اپنی پوزیشن مستحکم کی۔
وزیر دفاع نے کہاکہ موجودہ پارلیمنٹ کے بیشتر اراکین نے جنرل ضیا کی لوکل گورنمنٹ کے نظام سے تجربہ حاصل کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لوکل گورنمنٹ کسی کے لیے خطرہ نہیں، اور اگر کسی کو خدشہ ہے تو وہ صرف بیوروکریسی ہے کیونکہ اس کے اختیارات کم ہو جائیں گے۔
مزید پڑھیں: وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر قرار دے دیا
خواجہ آصف نے یہ بھی کہاکہ قومی سلیبس سے متعلق شقیں بھی 27 ویں ترمیم میں شامل نہیں کی گئیں، اور امید ظاہر کی کہ موجودہ بحث کے نتیجے میں آئینی ترمیم میں یہ شقیں بھی شامل ہوں گی۔













