پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اس قانون کا مقصد بیوی، بچوں، بزرگ افراد، معذور افراد، ٹرانس جینڈر اور ایک ساتھ رہنے والے افراد کو گھریلو تشدد اور ہر قسم کے استحصال سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
واضح رہے کہ بل کے تحت بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا، گالی دینا، تعاقب کرنا، جذباتی اور نفسیاتی طور پر پریشان کرنا قابلِ سزا جرائم قرار دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ نے دانش اسکول اتھارٹی سمیت 3 اہم قوانین منظور کرلیے، اپوزیشن کا احتجاج رائیگاں
سوشل میڈیا پر ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 کے بعض نکات پر بحث جاری ہے، خصوصاً اس تاثر پر کہ قانون کے تحت اب شوہر کا اپنی بیوی کو دیکھنا بھی جرم بن گیا ہے۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سماجی کارکن طاہرہ کاظمی کا کہنا تھا کہ بیوی کو گھورنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ کہتی ہیں اس حوالے سے ایک معروف محاورہ بالکل درست طور پر کوٹ کیا جاسکتا ہے،
’کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نگاہ۔‘
یہاں شیر کی نگاہ سے مراد وہ نگاہ ہے جس میں شدید اگریشن، تنبیہ اور غصہ چھپا ہوتا ہے۔ ایسی نگاہ دراصل گھورنے، ڈانٹ یا وارننگ کی ایک خاموش شکل ہوتی ہے، جس کا مقصد سامنے والے شخص کو خوف اور دباؤ میں رکھنا ہوتا ہے۔
یعنی زبان سے کچھ کہے بغیر، صرف اپنے انداز، اپنے اشاروں، تاثرات اور نگاہ کے ذریعے اپنی جارحیت ظاہر کرنا اور دوسرے کو ہراساں کرنا ہے۔
سماجی کارکن طاہرہ کاظمی کے مطابق، یہاں جس ’گھورنے‘ کا ذکر کیا جاتا ہے، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مرد اگریسیو ہوکر اپنی بیوی کو ذہنی دباؤ، خوف یا ہراس میں مبتلا کرے۔
ان کا کہنا ہے کہ خاموش اگریشن بھی اگریشن ہی ہوتی ہے، اور رشتوں میں اس طرح کی نگاہ، رویہ یا انداز کسی صورت قابلِ قبول نہیں، احترام، تحفظ اور برابری ہی صحت مند ازدواجی تعلق کی بنیاد ہیں، نہ کہ خوف پھیلانے والی خاموش دھمکی۔
یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ میں ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2026 منظور، بیوی، بچوں اور گھر کے افراد کے تحفظ کو قانونی تحفظ حاصل
طاہرہ کاظمی کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سی خواتین کے لیے اس قانون سے فائدہ اٹھانا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ اکثر خواتین میں شکایت کرنے اور عدالت تک جانے کی ہمت نہیں ہوتی۔
ان کے مطابق اگر کوئی خاتون ہمت کر بھی لے تو اسے واپس آ کر اسی مرد کے ساتھ رہنا ہوگا، جس سے خوف اور دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔
طاہرہ کاظمی کے مطابق یہ بل ایک مثبت قدم ہے، کیونکہ اس کے ذریعے شوہروں کو ایک حد اور دائرے میں لانے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم جب تک معاشرے کا مجموعی رویہ اور ذہنیت تبدیل نہیں ہوتی، تب تک اس قانون کے اثرات بڑے پیمانے پر نظر آنا مشکل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پھر بھی یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ کم از کم گفتگو کا آغاز ہو گیا ہے، اور جب بات شروع ہوتی ہے تو آگے بڑھتی بھی ہے، البتہ اس قانون کے مؤثر نفاذ میں وقت لگے گا۔
خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی کارکن مصباح بلال کے مطابق ’گھورنے‘ سے مراد عام یا فطری نظر نہیں بلکہ ایسا رویہ ہے جو ہراسانی، خوف، دباؤ یا ذہنی اذیت کا باعث بنے۔
یہ بھی پڑھیں: کم عمری کی شادی کا قانون غیر اسلامی ہے، 18 سال سے چھوٹے نوجوانوں کی شادیاں کرواؤں گا، مولانا فضل الرحمان
ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کا مقصد ازدواجی رشتے میں فطری میل جول کو جرم بنانا نہیں بلکہ ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو بار بار، جان بوجھ کر اور منفی نیت کے ساتھ کسی فرد کو نفسیاتی نقصان پہنچائیں۔
مصباح بلال کے مطابق اگر قانون کی تشریح واضح نہ کی گئی تو اس کے غلط استعمال کا خدشہ موجود رہے کہتی ہیں کہ اس بل پر عملدرآمد کے دوران نیت، حالات اور شواہد کو بنیادی حیثیت دی جائے، تاکہ نہ تو مظلوم کو انصاف سے محروم رکھا جائے اور نہ ہی کسی بے گناہ شخص کو بلاوجہ ہراسانی کا سامنا کرنا پڑے۔
ان کے مطابق قانون کی کامیابی کا انحصار سختی سے زیادہ دانشمندانہ اور منصفانہ نفاذ پر ہے۔
فیملی ایشوز کے کنسلٹنٹ چوہدری عبدالمقسط کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وائلنس بل 2025 کا مقصد قابلِ ستائش ہے، تاہم اگر قانون کی تشریح اور نفاذ میں احتیاط نہ برتی گئی تو اس کے غلط استعمال کا خدشہ موجود رہے گا۔
ان کے مطابق ازدواجی زندگی کے معمولی اختلافات، وقتی ناراضی یا سخت لہجے کو بغیر شواہد کے تشدد قرار دینا ناانصافی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اس سے نہ صرف خاندانی نظام متاثر ہو سکتا بلکہ بے گناہ افراد کو قانونی پیچیدگیوں اور ذہنی اذیت کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے،وہ کہتے ہیں کہ ہر نظر، ہر خاموشی یا ہر سخت لہجے کو مجرمانہ نیت سے جوڑ دینا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔
یہ بھی پرھیں: کم عمری کی شادی کیخلاف قانون سازی، صدرِ مملکت نے دستخط کر دیے، خلاف ورزی پر سخت سزائیں نافذ
ان کا کہنا تھا کہ قانون پر عملدرآمد کے دوران نیت، حالات اور ٹھوس شواہد کو اہمیت دی جانی چاہیے، تاکہ مظلوم کو تحفظ بھی ملے اور کسی بے گناہ شخص کو بلاوجہ قانونی ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یاد رہے کہ بل کے تحت قانون کے مطابق گھریلو تشدد میں ملوث افراد کو تین سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا، جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید تین سال قید کی سزا بھی دی جا سکے گی۔
قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ جسمانی، نفسیاتی، جنسی اور معاشی استحصال سب گھریلو تشدد کے زمرے میں آئیں گے۔ بیوی یا گھر میں موجود دیگر افراد کی عزتِ نفس مجروح کرنا، پرائیویسی کی خلاف ورزی یا جسمانی نقصان کی دھمکی بھی جرم تصور ہوگا۔
مزید یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ڈومیسٹک وائلنس بل کے تحت متاثرہ شخص کو مشترکہ رہائش گاہ میں رہنے کا قانونی حق حاصل ہوگا، جبکہ جوابدہ شخص کو متاثرہ فرد کے لیے علیحدہ رہائش فراہم کرنے کا پابند بنایا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پارلیمنٹ کا قانون سازی کا اختیار آئین کے تابع ہے، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
عدالت تشدد کرنے والے فرد کو متاثرہ شخص سے دور رہنے اور جی پی ایس ٹریکر پہننے کے احکامات بھی جاری کر سکے گی۔
قانون کے مطابق عدالت میں درخواست دائر ہونے کے 7 دن کے اندر سماعت شروع کی جائے گی اور 90 دن کے اندر فیصلہ سنایا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ قانون گھریلو تشدد کے خلاف ایک اہم سنگِ میل ہے، تاہم اس













