آئی سی سی نے بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو ورلڈ کپ میں شامل کر دیا ہے، جس کے بعد بنگلہ دیش کے لیے ٹی20 ورلڈ کپ سے دستبرداری کے مالی اثرات مزید سنگین ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ساتھ طویل مذاکرات اور سیاسی کشیدگی کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے انڈیا میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا، اور اسی فیصلے کے نتیجے میں آئی سی سی نے اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش ٹی20 ورلڈ کپ سے باہر، آئی سی سی نے متبادل ٹیم شامل کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا
آئی سی سی کے عالمی ایونٹس کرکٹ بورڈز اور کھلاڑیوں کے لیے اہم آمدنی کا ذریعہ ہوتے ہیں، اس لیے اس ٹورنامنٹ میں شرکت نہ کرنے کی صورت میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ، اس کے کھلاڑیوں اور دیگر متعلقہ افراد کو نمایاں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اگر بنگلہ دیش ورلڈ کپ میں کھیلتا تو بی سی بی، کھلاڑیوں، کوچنگ سٹاف اور مینجمنٹ کو مجموعی طور پر تقریباً 4 کروڑ ٹکا ملنے تھے، جو امریکی ڈالر میں تقریباً 3 لاکھ ڈالر بنتے ہیں۔
اس کے علاوہ اگر کوئی ٹیم ٹاپ 12 میں جگہ بناتی تو اسے ساڑھے 5 کروڑ ٹکا سے زائد کی رقم ملتی، جو ڈالر میں تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار بنتی ہے۔ اب یہ رقم بنگلہ دیش کے لیے ضائع ہورہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو شامل کرنے کا فیصلہ
سب سے بڑا مالی اثر کھلاڑیوں پر پڑے گا، کیونکہ وہ میچ فیس، پرفارمنس بونس اور انعامی رقم کے مواقع سے محروم ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی ذاتی آمدنی میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش کے کرکٹرز ایک بین الاقوامی ٹی20 میچ کھیلنے پر کم از کم 2 لاکھ 50 ہزار ٹکا فی میچ معاوضہ حاصل کرتے ہیں، لہٰذا میچ نہ کھیلنے سے ان کی کمائی میں واضح فرق آئے گا۔
بی سی بی کو بھی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ آئی سی سی کی جانب سے شرکت فیس کے طور پر 3 لاکھ سے 5 لاکھ امریکی ڈالر ملنے کی توقع تھی، جو اب حاصل نہیں ہو سکے گی۔ بنگلہ دیشی کرنسی میں یہ رقم تقریباً 4 سے 6 کروڑ ٹکا بنتی ہے، جو بورڈ کے لیے بڑا خسارہ تصور کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے آئی سی سی کی غیر جانب داری پر سوال اٹھادیا
اسی کے ساتھ بنگلہ دیش کی عدم شرکت سے نشریاتی اور اشتہارات کی مد میں بھی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے، کیونکہ خطے میں بنگلہ دیش کے میچز ٹیلی ویژن پر اچھا ناظرین کا تناسب حاصل کرتے ہیں۔
اگر بنگلہ دیش کے میچز نہ ہوں تو ٹی آر پی میں کمی کے باعث اشتہارات کے تقسیم کار اداروں اور سپانسرز کی دلچسپی بھی کم ہو سکتی ہے، جس سے ٹورنامنٹ کی مجموعی تجارتی قدر بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بنگلہ دیش ورلڈ کپ میں شامل نہ ہوا تو نہ صرف بی سی بی اور کھلاڑیوں بلکہ آئی سی سی اور اشتہاری اداروں کو بھی مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، کیونکہ اس سے ناظرین کی تعداد اور ٹورنامنٹ کی تجارتی قدر میں کمی آسکتی ہے۔














