وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ سے متعلق معاملے میں پاکستان کو بنگلہ دیش کا ساتھ دینا چاہیے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران ان سے آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیے جانے سے متعلق سوال کیا گیا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش ٹی20 ورلڈ کپ سے باہر، آئی سی سی نے متبادل ٹیم شامل کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا
اس پر رانا ثنااللہ نے کہاکہ طویل المدتی مفاد اسی میں ہے کہ پاکستان اس معاملے پر بنگلہ دیش کے مؤقف کے ساتھ کھڑا ہو، اگرچہ اس فیصلے سے کرکٹ کے میدان میں پاکستان کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے اور مالی لحاظ سے بھی خسارہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ بنگلہ دیش کی حمایت کے مستقبل میں مثبت اور دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہو سکتے ہیں، یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے بھائیوں کی طرح سہارا بن سکتے ہیں۔
سینیٹر رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور بھارت دونوں ممالک کا مشترکہ دشمن ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیاکہ پاکستان کو ٹی20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے یا نہیں، اس حوالے سے کسی حتمی فیصلے سے قبل تفصیلی مشاورت اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو ٹی20 ورلڈ کپ سے باہر کرتے ہوئے اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو متبادل کے طور پر شامل کرلیا ہے۔
اس پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہاکہ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے ساتھ زیادتی کی، اب پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں اس کا فیصلہ حکومت کرےگی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے کہاکہ ہم آئی سی سی سے زیادہ حکومت پاکستان کے فیصلوں کے پابند ہیں، بھارت اور بنگلہ دیش کے لیے الگ الگ قوانین سمجھ سے باہر ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم وہی کریں گے جو حکومت کہے گی، پاکستان اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی پر کرےگا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش سے زیادتی ہوئی، پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں اس کا فیصلہ حکومت کرےگی، محسن نقوی
واضح رہے کہ بنگلہ دیش نے سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر اپنی ٹیم بھارت بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے متبادل وینیو کی درخواست کی تھی، جو آئی سی سی کی جانب سے مسترد کردی گئی۔













