ابوظبی میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والے 2 روزہ روس یوکرین مذاکرات بغیر کسی نمایاں پیش رفت کے اختتام پذیر ہو گئے۔
اماراتی حکومت کے ترجمان کے مطابق اس دوران روسی اور یوکرینی حکام کا براہِ راست رابطہ ہوا اور بات چیت ایک مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی، جس میں امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے امن فریم ورک کے نکات پر توجہ مرکوز رہی۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ پیوٹن ملاقات: امن معاہدے پر پیشرفت، روس یوکرین جنگ بندی کا اعلان نہ ہوسکا
روسی وزارتِ خارجہ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مذاکرات کے ممکنہ اگلے دور میں شرکت کی رضا مندی ظاہر کی ہے۔
صدر زیلنسکی نے کہاکہ ابوظبی میں بات چیت تعمیری رہی اور اگر مزید مثبت پیش رفت ہوئی تو ایک ہفتے میں مزید مذاکرات منعقد ہوں گے۔
اماراتی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے بھی سہ فریقی مذاکرات کو فائدہ مند قرار دیا۔
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ مذاکرات میں فریقین کے درمیان باہمی احترام دکھائی دیا اور دونوں جانب سے روس یوکرین تنازع کے حل کی خواہش واضح تھی۔
امریکی عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ روس یوکرین مذاکرات کا اگلا دور اتوار کو ابوظبی میں منعقد ہوگا، جس میں یوکرین امن معاہدے کو حتمی مرحلے کی جانب لے جانے پر توجہ دی جائے گی۔
مزید پڑھیں: جنگ بندی کے بعد روسی حملے پر امریکا یوکرین میں کثیرالملکی فورس کی تعینانی کی حمایت کرے گا
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ روس اور یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے کسی نکتے پر متفق ہوں لیکن ابھی تک کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔













