امریکی کوہ پیما الیکس ہونولڈ نے نیٹ فلکس کے اسکائی اسکریپر لائیو ایونٹ کے دوران دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں شامل تائپے 101 کو بغیر کسی رسی اور حفاظتی سامان کے سر کرکے ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کرلی۔
یہ چڑھائی خراب موسم کے باعث تاخیر کے بعد 24 جنوری کو مکمل کی گئی، جس کے دوران ہونولڈ نے ایک ہزار 667 فٹ بلند عمارت کی تمام 101 منزلیں طے کیں اور اس کے بعد قریباً 70 میٹر بلند اسپائر تک پہنچنے کی کوشش کی۔ یہ پوری مہم بغیر رسی یا کسی حفاظتی آلات کے انجام دی گئی اور اسے براہِ راست نشر کیا گیا۔
ALEX HONNOLD AFTER COMPLETING HIS FREE SOLO OF TAIPEI 101: “Sick.”
The 101 story climb took 1 hour and 35 minutes #SkyscraperLIVE pic.twitter.com/TIzeRqiUcM
— Netflix (@netflix) January 25, 2026
چڑھائی سے قبل الیکس ہونولڈ نے ایونٹ کے معاوضے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسے مرکزی دھارے کے کھیلوں کے مقابلے میں معمولی قرار دیا۔
دی نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر آپ اسے مرکزی کھیلوں کے تناظر میں دیکھیں تو یہ شرمناک حد تک کم رقم ہے۔ میجر لیگ بیس بال کے کھلاڑیوں کو تقریباً 170 ملین ڈالر کے معاہدے ملتے ہیں۔
’اگرچہ درست رقم ظاہر نہیں کی گئی، تاہم رپورٹس کے مطابق یہ معاوضہ 6 عددی رقم یا اس سے کم ہو سکتا ہے۔‘
ہونولڈ نے مزید کہاکہ انہیں جسمانی چیلنج کے لیے نہیں بلکہ اس ایونٹ کی نشریاتی نمائش کے لیے ادائیگی کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ٹی وی پروگرام نہ ہوتا اور مجھے اجازت دے دی جاتی تو میں یہ کام ویسے ہی کر لیتا، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں یہ کر سکتا ہوں اور یہ شاندار ہوتا۔ مجھے اس تماشے کے لیے پیسے مل رہے ہیں۔
چڑھائی کے دوران ان کی اہلیہ سانی مک کینڈلس نے نیٹ فلکس سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ میرے خیال میں وہ بہت پُرجوش ہیں۔ موسم خوبصورت ہے، یہاں توانائی زبردست ہے اور وہ وہی کر رہے ہیں جو انہیں پسند ہے۔
’میں بس خود کو پُرسکون رکھنے اور اس لمحے میں رہنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ میں بالکل پُرسکون ہوں۔‘
مزید پڑھیں: کوہ پیما ثمینہ بیگ جنوبی قطب تک اسکینگ کرنے والی پہلی پاکستانی بن گئیں
الیکس ہونولڈ بحفاظت عمارت کی چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب رہے اور بغیر رسی تائپے 101 کو سر کرنے والے پہلے شخص بن گئے، جس سے ان کے فری سولو کلائمبنگ کیریئر میں ایک اور سنگِ میل کا اضافہ ہوا۔














