پاکستان اور امریکا کے درمیان مثبت اور تعمیری روابط نے نئی دہلی میں بے چینی پیدا کردی ہے۔
رپورٹس کے مطابق مئی 2025 کے بعد سے بھارت کو واشنگٹن کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا ہے، جبکہ اسی دوران بھارت نے روس اور یورپی یونین کے ساتھ سیاسی، معاشی اور دفاعی روابط میں توسیع کی ہے۔
مزید پڑھیں: اصلاحات اور استحکام کے بعد پاکستان امریکا کے لیے اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر ابھرنے لگا
پاک بھارت جنگ رکوانے کا کریڈٹ ڈونلڈ ٹرمپ کو نہ دینے کا مودی سرکار کا فیصلہ بھی غلط ثابت ہوا، جس کے بعد امریکی صدر اپنی ہر گفتگو میں بھارتی طیارے گرائے جانے کا تبصرہ کرتے ہیں۔
بھارت اب فیس سیونگ اور اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے مختلف حربے اپنا رہا ہے اور لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر امریکا نے ہاتھ کھینچ لیا ہے تو بھارت کے پاس متبادل آپشن بھی موجود ہیں، لیکن اصل میں بھارت کے ایوانوں میں پریشانی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے بھارت نے یورپی یونین کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈر لائین کی آمد کی بھارت آمد کا خیرمقدم کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں کو بھارت کے 77ویں یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت امریکی حکام کے دوروں اور 2026 میں ہونے والے یورپی یونین۔بھارت سمٹ کو محض نمائشی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے تاکہ یورپی یونین اور امریکا کی حمایت کا تاثر دیا جا سکے اور خود کو ایک متبادل طاقت کے مرکز کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق بھارت کے ساتھ فوجی روابط کو اس کے علاقائی طرزِعمل یا کشیدگی بڑھانے کے رویے کی توثیق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں استحکام مکالمے سے گریز اور نمائشی عسکریت پسندی سے کمزور ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک شراکت داریوں کو رسمی سفارت کاری کے بجائے رویّے اور نتائج کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔
’بھارت کی جانب سے روس کے ساتھ دفاعی، توانائی اور سیاسی تعاون میں اضافہ براہِ راست امریکا اور یورپ کی ان کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے جن کا مقصد ماسکو پر دباؤ ڈالنا ہے۔‘
مزید کہا گیا ہے کہ بھارت اس وقت اسٹریٹجک ہم آہنگی کا دعویٰ نہیں کر سکتا جب وہ ایسے تنازع سے فائدہ اٹھا رہا ہو جسے مغربی دنیا محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق وقتی فائدے کے لیے اختیار کی گئی متوازن حکمتِ عملی وقتی لچک تو فراہم کر سکتی ہے، تاہم وقت کے ساتھ اتحادیوں کے اعتماد اور پیش گوئی کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ بھارت کی قربت، جسے یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے ذریعے نمایاں کیا جا رہا ہے، دراصل امریکی اثرورسوخ کے متبادل کے طور پر دکھانے کی کوشش ہے، نہ کہ مغربی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہار ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا بھارت کشیدگی: نریندر مودی کا 7 برس بعد چین کا دورہ کرنے کا فیصلہ
اس طرزِعمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بھارت مغرب سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اس کے فیصلوں کو بغیر کسی ضبط، احتساب یا ذمہ داری کے قبول کرے۔
اس کے برعکس پاکستان انسدادِ دہشتگردی، بحرانوں کے انتظام اور علاقائی خطرات میں کمی کے لیے مغربی سلامتی مقاصد کے مطابق تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔














