انٹرنیشنل کریمنل پولیس آرگنائزیشن انٹرپول نے القادر ٹرسٹ، 190 ملین پاؤنڈ کیس میں شہزاد اکبر کے خلاف کارروائی ختم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب کسی بھی انٹرپول نوٹس یا ڈفیوژن کے تحت نہیں ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرپول نے سابق وزیراعظم عمران خان کے احتساب سربراہ شہزاد اکبر کا نام انٹرپول ڈیٹا بیس سے حذف کر دیا ہے، یہ کیس پاکستان کی وزارت داخلہ کی درخواست پر درج کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ: سابق مشیر شہزاد اکبر پر نامعلوم شخص کی جانب سے تشدد، ناک اور جبڑا توڑ دیا
یہ پیشرفت چند ہفتے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں مونس الٰہی اور ذلفی بخاری کو بھی مختلف مقدمات میں انٹرپول کی جانب سے کلیئر کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں القادر ٹرسٹ کیس اور جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس شامل تھے۔
القادر ٹرسٹ کیس، جسے 190 ملین پاؤنڈ کیس بھی کہا جاتا ہے، میں الزام ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے قومی احتساب بیورو اور ایک نجی رئیل اسٹیٹ ادارے کے درمیان ہونے والے تصفیے سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔
الزام میں کہا گیا ہے کہ اس تصفیے کے تحت برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے پاکستان واپس کیے گئے فنڈز کو مبینہ طور پر اس ادارے کی واجبات کے بدلے ایڈجسٹ کیا گیا، جبکہ اس کے عوض القادر ٹرسٹ کو زمین منتقل کی گئی جو عمران خان اور ان کی اہلیہ کے نام پر قائم کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اورعادل راجا کی حوالگی کا مطالبہ کردیا
گزشتہ سال عمران خان کو اسی کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید اور جرمانہ عائد کیا گیا۔ پی ٹی آئی کا مؤقف رہا ہے کہ مذکورہ زمین روحانی تعلیمی مرکز کے لیے عطیہ کی گئی تھی اور اسے ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔
شہزاد اکبر نے اپنے وکلا کے ذریعے انٹرپول کو آگاہ کیا تھا کہ ان کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے، 190 ملین پاؤنڈ کا تصفیہ اس وقت کی وفاقی کابینہ کی منظوری سے ہوا، اور متعلقہ رقم ریاستی خزانے میں جمع کرائی گئی، نہ کہ ذاتی طور پر عمران خان کو دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ذاتی فائدے یا کسی سودے کا کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
شہزاد اکبر کے خلاف کیس تقریباً 2 سال قبل اس وقت شروع ہوا جب وزارت داخلہ نے انٹرپول سے ریڈ نوٹس اور حوالگی کی درخواست کی۔ اسی دوران مونس الٰہی کے خلاف بھی مقدمات قائم کیے گئے تھے، تاہم انٹرپول کی تحقیقات میں ان الزامات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں شہزاد اکبر کا مرکزی کردار ثابت
انٹرپول کی جانب سے جاری خط میں بتایا گیا کہ پاکستان کی طرف سے فراہم کردہ معلومات انٹرپول انفارمیشن سسٹم سے حذف کردی گئی ہیں اور شہزاد اکبر اس وقت کسی بھی انٹرپول نوٹس یا ڈفیوژن کے تحت نہیں ہیں۔














