پاکستان ویسے تو معرض وجود میں آنے کے بعد سے ہی نازک موڑ سے گزر رہا ہے، لیکن اپریل 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس نازک موڑ پر ناصرف چڑھائی بھی شامل ہو گئی ہے، بلکہ راستہ بھی ناہموار ہو گیا ہے۔ جس پر چلنا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔
سمجھنے والے ناسمجھ سمجھتے ہیں کہ ملک کے موجودہ حالات کی وجہ وہ عدم استحکام ہے جو خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے شروع ہوا ہے۔ جس میں مزید اضافہ فروری 2024 کے انتخابات کے بعد ہوا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ موجودہ حکومت فارم 47 کی حکومت ہے، تاہم اس عدم استحکام کی ایک وجہ واسطہ یا بلا واسطہ طور پر عمران خان بھی ہیں، جو کسی بھی قسم کی ڈیل کے لیے رضا مند نہیں ہیں۔ جنہیں باخوبی اندازہ ہے کہ اس ملک میں اقتدار تک پہنچنے کے لیے شادٹ کٹ کہاں سے اور کیسے لگایا جاتا ہے۔
عمران خان دراصل کسی کی قید میں نہیں، بلکہ وہ اپنی ذات کے قیدی ہیں۔ وہ اس تشخص کے قیدی ہے جو تاریخ میں اپنے آپ کو بطور لیڈر اپنے آپ کو یاد رکھوانا چاہتے ہیں اور انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کے دو قدم پیچھے ہٹنے سے نہ صرف انہیں ریلیف ملے گا بلکہ ملک میں قائم عدم استحکام میں بھی کمی آئے گی۔
اگر قوم کے کروڑوں لوگوں کو عمران خان میں ایک مسیحہ نظر آتا ہے تو پھر خان ان کروڑوں چاہنے والوں کی خاطر دو قدم پیچھے ہٹ کر اسٹیبلشمنٹ سے سمجھوتہ کیوں نہیں کر لیتے، جن کے کندھوں پر بیٹھ کر ہی عمران خان 2018 میں اقتدار میں آئے تھے۔
کیوں جیل میں بیٹھ کر یہ گانا گنگناتے رہتے ہیں کہ ’کبھی تم کو بھی ہم سے پیار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو‘۔ کیوں نہیں وہ اپنی لیڈری کو سائیڈ پر رکھ کو اس ملک کی 25 کروڑ عوام کے بارے میں سوچتے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کی مقبولیت اس وقت عروج پر ہے اس کے باوجود کہ خان کی قبولیت اس وقت نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن درحقیقت عمران خان کی مقبولیت ہی ان کی قبولیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، لیکن عمران خان اس مقبولیت کی خاطر ہی دو قدم پیچھے ہٹ کر اپنی قبولیت کے لیے راستہ بنا سکتے ہیں اور ویسے بھی ان کے لیے کون سا یہ مشکل کام ہے، ماضی میں عمران خان قبولیت کرنے والوں کی خاطر 126 دنوں تک ڈی چوک میں بھی تو بیٹھے رہے تھے۔
پاکستان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو عمران خان کا موازنہ ذوالفقار علی بھٹو سے کرتے ہیں، لیکن ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ بھٹو کو بے شک 1970 کے انتخابات کے آس پاس مقبولیت اور قبولیت حاصل تھی لیکن 5 جولائی 1977 کے ضیاالحق کے مارشل لا کے بعد بھٹو کے پاس قبولیت تو درکنار ماضی جیسی مقبولیت بھی باقی نہیں بچی تھی، اور ایسی صورت میں بھٹو کے لیے یہی فیصلہ بہتر تھا کہ وہ تاریخ میں زندہ رہنے کے لیے فوج کے ہاتھوں مرنا قبول کریں۔
کیسی بد قسمتی ہے کہ اس دور میں بھٹو کی پھانسی کا مطالبہ کرنے والوں کی اکثریت آج عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کاش کہ ایوب دور میں چڈیاں پہن کر بھنگڑے ڈالنے والی یہ جنریشن بھٹو کو بھی ایک آمر سے بچانے کے لیے آواز اٹھاتی تو آج انہیں شائد عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے کی ضرورے ہی پیش نہ آتی۔
ملک کی موجودہ صورت حال میں دیکھا جائے تو خان کے وقتی طور پر پیچھے ہٹنے سے ملک میں اگر استحکام آتا ہے اور ایک عام آدمی کی زندگی میں بہتری آتی ہے تو اس کا سہرا بھی عمران خان کو ہی جائے گا۔
لیکن پتا نہیں کیوں عمران خان بضد ہیں کہ وہ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے، جس کی وجہ سے لگتا ہے کہ عمران خان کسی حد تک خود غرض ہیں جو بس یہ چاہتے ہیں کہ وہ تاریخ میں ایک لیڈر کے طور پر یاد رکھے جائیں، قوم کا کیا ہے، وہ تو پچھلے 79 سالوں سے نازک موڑ سے ہی گزر رہی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














