چُپرسن ویلی: فالٹ زونز کے نرغے میں ایک انسانی بحران

منگل 27 جنوری 2026
author image

سیدہ سفینہ ملک

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گلگت بلتستان کی وادیاں دنیا بھر میں قدرتی حسن، بلند پہاڑوں اور خاموش مناظر کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔ انہی وادیوں میں واقع چُپرسن ویلی، جو ضلع گوجال ہنزہ کا ایک سرحدی علاقہ ہے، آج ایک ایسے بحران سے دوچار ہے جس نے اس کے باسیوں کی زندگی، سلامتی اور مستقبل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

گزشتہ چند مہینوں سے چُپرسن ویلی اور اس کے گردونواح میں زیرِ زمین جھٹکوں، دھماکوں جیسی آوازوں اور مسلسل آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ صورتحال محض وقتی زلزلہ نہیں بلکہ ایک مسلسل اور بڑھتا ہوا مسئلہ بن چکی ہے، جس کے باعث مقامی آبادی شدید خوف، ذہنی دباؤ اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے۔

13 اکتوبر: ایک فیصلہ کن دن

13 اکتوبر کو آنے والا ایک شدید زمینی جھٹکا چُپرسن کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ اس جھٹکے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں مکانات کو نقصان پہنچا، گھروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں اور کئی رہائشی عمارتیں غیر محفوظ ہو گئیں۔ خوفزدہ ہو کر لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے اور یوں ایک بڑے پیمانے پر عارضی بے گھری کا آغاز ہوا۔

موجودہ صورتحال کے مطابق، علاقے میں تقریباً 80 فیصد خاندان ٹینٹس میں رہائش پذیر ہیں۔ شدید سرد موسم، محدود سہولیات اور غیر محفوظ رہائش نے خاص طور پر بزرگوں، بچوں اور خواتین کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

جغرافیائی حقیقت: فالٹ زونز کے درمیان قید وادی

چُپرسن ویلی کی جغرافیائی ساخت اس بحران کی بنیادی وجہ سمجھی جا رہی ہے۔ یہ وادی چار بڑے ایکٹیو فالٹ زونز کے درمیان واقع ہے، جن میں:

مین قراقرم تھرسٹ (Main Karakoram Thrust – MKT)

مسگر فالٹ

ہیرات فالٹ (افغانستان کی سمت)

قراقرم میٹامورفک کمپلیکس (چین کی طرف)

یہ تمام فالٹس ایکٹیو تصور کیے جاتے ہیں۔ 1992 میں سائنسدان گانگچن کی تحقیق کے مطابق، مسگر فالٹ ایک اسٹرائیک سلِپ فالٹ ہے، جو معمولی زمینی حرکت پر بھی شدید آفٹر شاکس پیدا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم میگنیٹیوڈ کے زلزلے بھی چُپرسن اور مسگر ویلی میں غیر معمولی شدت کے ساتھ محسوس ہوتے ہیں۔

چٹانوں کی ساخت اور وائبریشن کا مسئلہ

چُپرسن ویلی کی زمین زیادہ تر لو گریڈ سے میڈیم گریڈ میٹامورفک راکس پر مشتمل ہے، جو لوز کنسولیڈیٹڈ پارٹیکلز رکھتے ہیں۔ اس قسم کی ساخت میں:

وائبریشن جلدی پھیلتی ہے

شیکنگ زیادہ دیر تک محسوس ہوتی ہے

آفٹر شاکس کی فریکوئنسی بڑھ جاتی ہے

یوں معمولی زلزلہ یا بیرونی وائبریشن بھی مقامی سطح پر بڑے اثرات پیدا کر سکتی ہے۔

انسانی سرگرمیاں اور اضافی خطرات

قدرتی عوامل کے ساتھ ساتھ بعض انسانی سرگرمیاں بھی اس مسئلے میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ علاقے میں مقامی سطح پر مائننگ اور تعمیراتی کاموں کے دوران ڈائنامائٹ یا بلاسٹنگ کا استعمال کیا جاتا ہے، جس سے زمینی وائبریشن مزید بڑھ جاتی ہے۔

اگرچہ یہ سرگرمیاں محدود پیمانے پر ہوتی ہیں، مگر ایک حساس فالٹ زون میں ان کے اثرات کئی گنا زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔ اس پہلو پر تاحال کوئی جامع ضابطہ یا نگرانی کا نظام نظر نہیں آتا۔

عوامی خدشات اور سائنسی سوالات

مسلسل جھٹکوں اور زیرِ زمین آوازوں نے عوام میں یہ خدشہ بھی پیدا کر دیا ہے کہ کہیں زمین کے اندر کوئی غیر معمولی سرگرمی—جیسے لاوا، گیس یا پریشر زون—تو متحرک نہیں ہو رہا۔ حالیہ دنوں میں آغا خان ایجنسی (AKDN) اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی ٹیموں نے علاقے کا دورہ کیا ہے، تاہم ان کی حتمی رپورٹ تاحال منظرِ عام پر نہیں آئی۔

یہ رپورٹ نہ صرف عوامی خوف کم کرنے کے لیے اہم ہے بلکہ مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

سردی، بیماری اور انسانی بحران

زلزلوں کے خطرے کے ساتھ ساتھ چُپرسن کے عوام کو گلگت بلتستان کی شدید سردیوں کا بھی سامنا ہے۔ اگرچہ مختلف اداروں نے ٹینٹس فراہم کیے ہیں، مگر یہ ٹینٹس:

شدید سردی کے لیے ناکافی ہیں

طویل مدتی رہائش کے قابل نہیں

بیماریوں اور صحت کے مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں

یہ صورتحال واضح طور پر ایک ہیومینیٹیرین کرائسس کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

ریلیف نہیں، منصوبہ بندی درکار ہے

چُپرسن کا مسئلہ صرف فوری امداد سے حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ایک جامع، سائنسی اور طویل مدتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، جس میں:

تفصیلی جیولوجیکل سروے

مستقل یا نیم مستقل محفوظ شیلٹرز

سردیوں سے بچاؤ کے انتظامات

طبی سہولیات

اور ممکنہ ری لوکیشن پلان

شامل ہوں۔

حکومتِ گلگت بلتستان، وفاقی اداروں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو اس مسئلے کو وقتی ایمرجنسی کے بجائے پالیسی لیول کے بحران کے طور پر دیکھنا ہوگا۔

چُپرسن ویلی آج بھی قدرتی حسن سے مالا مال ہے، مگر اس حسن کے نیچے ایک غیر مستحکم زمین سانس لے رہی ہے۔ اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔

چُپرسن کے عوام کسی رعایت کے طلبگار نہیں،

وہ صرف محفوظ زندگی، سائنسی وضاحت اور ذمہ دار حکمرانی کا حق مانگ رہے ہیں۔

یہ ایک وادی کی آواز نہیں،

یہ مستقبل کے لیے ایک وارننگ ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بیرون ملک پاکستانیوں کے روزگار، فلاحی مسائل اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشیز کی کارکردگی کا جائزہ

پاکستان نے 2 سال کے لیے اقتصادی تعاون تنظیم کی چیئرمین شپ سنبھال لی

دہشتگرد وادی تیراہ میں موجود، کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں کی جائےگی، مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ

یونان میں دنیا کے قدیم ترین لکڑی کے اوزار دریافت، لاکھوں سال محفوظ رہنے پر سائنسدان حیران

بلوچستان حکومت کا بڑا انتظامی فیصلہ، محکمہ مذہبی امور تحلیل کرنے کی منظوری

ویڈیو

پروپیگنڈا ناکام، منہ توڑ جواب میں ہوش اڑا دینے والے ثبوت آگئے

22 لاکھ کی گاڑی کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے کی نمبر پلیٹ، پشاور میں نیا کارنامہ

گوادر: چائے کی خوشبو میں لپٹی خواتین کی خود مختاری، 3 پڑھی لکھی سہیلیوں کا کارنامہ

کالم / تجزیہ

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی

نظر نہ آنے والے ہتھیاروں سے کیسے بچاؤ کیا جائے؟