اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کردیا۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیرخزانہ کا معاشی اشاریوں میں بہتری، شرح سود اور بجلی کے نرخ میں مزید کمی کا عندیہ
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ 2 ماہ کے لیے شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، مہنگائی کی شرح 7.4 فیصد پر برقرار رہے گی، تاہم جون میں افراط زر بلند سطح پر جا سکتا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہاکہ حکومتی پالیسیوں کی بدولت درآمدات میں کمی ہورہی ہے، جبکہ ذرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بینکوں کی نقد رقوم جمع کروانے کی شرح میں ایک فیصد کم کرکے 5 فیصد مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا۔
مزید پڑھیں: افراط زر میں کمی؛ کیا شرح سود کو 6 فیصد تک لایا جا سکتا ہے؟
واضح رہے کہ اس سے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 15 دسمبر کو شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کمی کی تھی، جس کے بعد نئی شرح 11 سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہو گئی تھی۔













