فائبر کا استعمال ہماری عقل اور یادداشت کو کیسے محفوظ رکھتا ہے؟

پیر 26 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

زیادہ فائبر کھانے سے نہ صرف جسمانی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ دماغی صحت اور عمر بھی بہتر رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گوشت کے بغیر پروٹین کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟

بی بی سی کے مطابق فائبر سے بھرپور غذا جیسے کہ مکمل اناج، پھل، دالیں، گری دار میوے اور بیج، ہمارے جسم اور دماغ دونوں کے لیے بہت فوائد رکھتی ہے۔

تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ فائبر ہماری آنتوں میں موجود بیکٹیریا (مائیکرو بایوم) کو طاقتور بناتا ہے اور آنت و دماغ کے تعلق کو بہتر کرتا ہے جس سے علمی زوال کے اثرات سست پڑتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ابردین کی پروفیسر کارن اسکاٹ کہتی ہیں کہ دماغی صحت کے لیے فائبر کی مقدار بڑھانا سب سے مؤثر غذائی تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔

مثال کے طور پر امریکا میں مردوں کا 97 فیصد اور خواتین کا 90 فیصد جبکہ برطانیہ میں بالغوں کا 90 فیصد اپنی روزانہ کی فائبر کی ضرورت پوری نہیں کرتا۔

فائبر ہضم نہیں ہوتا اور آنت سے گزر کر فائدہ مند بیکٹیریا کے لیے توانائی پیدا کرتا ہے۔

مزید پڑھیے: صحت کیلئے مفید فائبر سے بھرپور غذائیں کونسی ہیں؟

یونیورسٹی آف ڈنڈی میں تجرباتی معدے اور آنتوں کے شعبے کے سابق پروفیسر جان کمِنگز کے مطابق روزانہ تقریباً 30 گرام فائبر کا استعمال، دل کی بیماری، اسٹروک، ٹائپ 2 ذیابیطس اور کولون کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے اور اموات کی شرح میں 15-30 فیصد کمی لاتا ہے۔

دماغی صحت کے لیے بھی فائبر انتہائی اہم ہے۔

فائبر بیکٹیریا کی پیداوار سے بیوٹریٹ نامی چکنائی کی مقدار بڑھاتا ہے جو آنت کی حفاظتی پرت کو مضبوط کر کے نقصان دہ مادے خون میں جانے سے روکتا ہے اور دماغی فعالیت کو بہتر بناتا ہے۔

سنہ 2022 میں 3,700 بالغ افراد پر کی گئی تحقیق میں زیادہ فائبر کھانے والوں میں ڈیمینشیا کا خطرہ کم پایا گیا۔

مزید برآں جڑواں افراد پر کیے گئے ایک مطالعے میں بھی فائبر کے روزانہ استعمال سے 3 ماہ میں علمی ٹیسٹ کے نتائج بہتر آئے۔

فائبر کی مختلف اقسام کو ہر کھانے اور ناشتے میں شامل کرنا مفید ہے۔

مزید پڑھیں: عمر کے مختلف مراحل میں غذائی اجزا کی اہمیت: کس عمر میں کون سی خوراک مفید ہے

مثال کے طور پر آلو کے چھلکے کے ساتھ بیکڈ بینز اور بعد میں سیب کھانے سے تقریباً 15.7 گرام فائبر حاصل ہوتا ہے۔ گری دار میوے اور بیج بھی مقدار بڑھانے میں مددگار ہیں۔

فائبر نہ صرف دماغی صحت بلکہ بہتر نیند، ڈپریشن میں کمی اور عمومی فلاح و بہبود میں بھی معاون ہے۔

پروفیسر اسکاٹ کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ الزائمر کے مریضوں میں فائدہ مند بیوٹریٹ پیدا کرنے والے بیکٹیریا کی کمی ہوتی ہے جس سے دماغی صحت متاثر ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فائبر کا زیادہ استعمال ہماری آنتوں کے مائیکرو بایوم کو متنوع بناتا ہے اور متوازن غذا کے ذریعے اسے بڑھانا آسان ہے۔

دالیں، سبزیاں، پھل، مکمل اناج اور گری دار میوے روزانہ کی غذا میں شامل کرنے سے فائبر کی مقدار بڑھائی جا سکتی ہے۔

فائبر سپلیمنٹس بھی مفید ہیں خاص طور پر ان افراد کے لیے جو چبانے یا نگلنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: جسم کو قدرتی طور پر ڈیٹاکس کرنے میں کیسے مدد دی جائے؟

کارن اسکاٹ کے مطابق فائبر کی مقدار بڑھانا دراصل صحت کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند اقدام ہے جو کوئی شخص کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بیرون ملک پاکستانیوں کے روزگار، فلاحی مسائل اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشیز کی کارکردگی کا جائزہ

پاکستان نے 2 سال کے لیے اقتصادی تعاون تنظیم کی چیئرمین شپ سنبھال لی

دہشتگرد وادی تیراہ میں موجود، کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں کی جائےگی، مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ

یونان میں دنیا کے قدیم ترین لکڑی کے اوزار دریافت، لاکھوں سال محفوظ رہنے پر سائنسدان حیران

بلوچستان حکومت کا بڑا انتظامی فیصلہ، محکمہ مذہبی امور تحلیل کرنے کی منظوری

ویڈیو

پروپیگنڈا ناکام، منہ توڑ جواب میں ہوش اڑا دینے والے ثبوت آگئے

22 لاکھ کی گاڑی کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے کی نمبر پلیٹ، پشاور میں نیا کارنامہ

گوادر: چائے کی خوشبو میں لپٹی خواتین کی خود مختاری، 3 پڑھی لکھی سہیلیوں کا کارنامہ

کالم / تجزیہ

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی

نظر نہ آنے والے ہتھیاروں سے کیسے بچاؤ کیا جائے؟