وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت اور اداروں کو دہشتگردی کے معاملے پر پالیسی سازی کے لیے ایک ساتھ بیٹھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صوبے اور عوام کی خاطر سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔
سہیل آفریدی پیر کے روز اچانک خیبرپختونخوا اسمبلی پہنچے اور اسمبلی سے خطاب میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا کو افغان سرحد کے راستے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خطرات درپیش ہیں، فیصل کریم کنڈی
’سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں‘
اسمبلی کے باہر ’وی نیوز‘ سے مختصر گفتگو میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
https://x.com/WENewsPk/status/2015820063094501521?s=20
آپ نے سب کو ساتھ بیٹھنے کا مشورہ دیا، لیکن کیا آپ خود اداروں کے ساتھ بیٹھیں گے؟ اس سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے اور عوام کی خاطر وہ سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔
اسمبلی اجلاس سے پرجوش تقریر کے دوران سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز جاری ہونے والی پریس ریلیز وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی کا پروانہ ہے، 24 رکنی کمیٹی نے تیراہ میں آپریشن کا فیصلہ کیا۔
’آج کے بعد کسی بھی وفاقی ادارے یا وفاق سے کمیونیکیشن زبانی نہیں بلکہ تحریری ہوگی۔‘
سہیل آفریدی نے وفاق کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ آئی ڈی پیز کی ادائیگی کی مد میں آج بھی وفاق کے ذمے 52 ارب روپے بقایا ہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور صوبائی حکومت کو ساتھ بٹھایا جائے۔ مستقل اور پائیدار امن کے لیے مل بیٹھ کر پالیسی بنانا ہوگی۔
’ایک طرف دہشتگردی ہے، دوسری طرف وفاق بقایاجات ادا نہیں کر رہا، جبکہ اب بھی 4 ہزار 758 ارب روپے وفاق کے ذمے ہیں۔‘
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کڑی شرط عائد کردی
سہیل آفریدی نے کہاکہ خیبر پختونخوا پر ایک دفعہ پھر دہشتگردی مسلط کی گئی ہے، ہماری جمہوری حکومت کو ایک منصوبے کے تحت گرایا گیا، بدامنی میں کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کا قصور نہیں۔














