پنجاب کے محکمہ وائلڈ لائف نے ایک دن میں غیر قانونی طور پر رکھے گئے 57 شیر برآمد کرکے 8 افراد کو گرفتار کرلیا۔
مزید پڑھیں: بنا لائسنس کلاشنکوف، شیر کا بچہ رکھنے پر ٹک ٹاکر کی گرفتاری و ضمانت پر رہائی
محکمہ نے مختلف شہروں میں آپریشنز کرتے ہوئے غیر قانونی جانوروں کی خرید و فروخت اور نگہداشت پر کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں ایک دن میں متعدد شیر اور دیگر جانور برآمد ہوئے۔
ترجمان محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق یہ کارروائیاں 24 جنوری کو پنجاب بھر میں غیر قانونی طور پر شیر رکھنے والے افراد کے خلاف کی گئیں۔
لاہور کے بیدیاں روڈ پر واقع فارم ہاؤس سے 20 شیر، جہلم کی ہاؤسنگ سوسائٹی سے 23 شیر، اور ملتان کینٹ کے فارم ہاؤس سے 9 شیر اور ایک بندر برآمد ہوئے۔ اس دوران لاہور سے 4، ملتان اور جہلم سے ایک ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا۔
گوجرانوالہ کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی سے 3 شیر ضبط کیے گئے جبکہ سیالکوٹ کے گاؤں لوتھر میں ایک گھر سے 2 شیر تحویل میں لیے گئے، اور دونوں مقامات سے ایک ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں پالتو شیر اور دیگر جنگلی بلیوں کو رکھنے کی قانونی اجازت ختم کرنے کا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایات جاری کی تھیں۔
یہ فیصلہ ڈھولا بریڈنگ فارم پرپیش آنے والے حادثے کے پس منظر میں کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 8 سالہ بچے واجد کا بازو ضائع ہوگیا تھا۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں پالتو شیر رکھنے کی قانونی اجازت ختم، وزیراعلیٰ مریم نواز کا بڑا فیصلہ
وزیراعلیٰ نے واقعے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی ہدایت جاری کی ہے۔














