نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یورپ، امریکا کی فوجی مدد کے بغیر اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یورپی یونین یا پورا یورپ امریکا کے بغیر محفوظ رہ سکتا ہے تو وہ ’خواب دیکھ رہا ہے‘۔
مارک روٹے نے یہ بات پیر کے روز برسلز میں یورپی یونین کے ارکانِ پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ اور امریکا ایک دوسرے کے محتاج ہیں اور کوئی ایک فریق اکیلا نہیں چل سکتا۔
دفاعی اخراجات میں کئی گنا اضافے کی ضرورت
نیٹو سربراہ کے مطابق اگر یورپ واقعی امریکا کے بغیر دفاع کرنا چاہے تو اسے اپنے دفاعی بجٹ میں دوگنا سے بھی زیادہ اضافہ کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ واقعی اکیلے چلنا چاہتے ہیں تو 5 فیصد دفاعی اخراجات بھی کافی نہیں ہوں گے، یہ شرح 10 فیصد تک لے جانا پڑے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ کو اپنی جوہری صلاحیت (نیوکلیئر کیپبیلٹی) بھی خود بنانا ہوگی، جس پر اربوں یورو خرچ ہوں گے۔
ٹرمپ کے بیانات سے نیٹو میں تناؤ
نیٹو کے اندر اس وقت کشیدگی پائی جا رہی ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں گرین لینڈ کو ضم کرنے کی دھمکیاں دی تھیں۔ گرین لینڈ، نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کا نیم خودمختار علاقہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا کی دفاعی ترجیحات میں تبدیلی، یورپی اتحادیوں کو فوجی معاونت محدود کرنے کا اعلان
ٹرمپ نے گرین لینڈ کی یورپی حمایت کرنے والے ممالک پر نئے ٹیرف (محصولات) لگانے کا اعلان بھی کیا تھا، تاہم بعد میں ایک فریم ورک معاہدے کے بعد یہ دھمکیاں واپس لے لی گئیں۔ اس معاہدے میں مارک روٹے نے ثالثی کا کردار ادا کیا، اگرچہ اس کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
نیٹو کا دفاعی معاہدہ اور آرٹیکل 5
نیٹو کے 32 رکن ممالک ایک مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت بندھے ہوئے ہیں، جسے آرٹیکل 5 کہا جاتا ہے۔ اس شق کے تحت اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہو تو باقی تمام ممالک اس کے دفاع کے پابند ہوتے ہیں۔
یورپی ممالک کا دفاعی بجٹ بڑھانے کا وعدہ
جولائی میں دی ہیگ میں ہونے والے نیٹو اجلاس میں، یورپی اتحادی ممالک (سوائے اسپین کے) اور کینیڈا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ آئندہ 10 برسوں میں دفاعی اخراجات کو امریکی سطح کے برابر لے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں: یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کردیا
اس کے تحت 3.5 فیصد GDP براہِ راست دفاع پر 1.5 فیصد GDP سیکیورٹی سے متعلق انفراسٹرکچر پر یوں مجموعی طور پر 5 فیصد GDP دفاع پر خرچ کرنے کا ہدف 2035 تک مقرر کیا گیا ہے۔
فرانس کی ’اسٹریٹجک خودمختاری‘ کی مہم
فرانس طویل عرصے سے یورپ کی اسٹریٹجک خودمختاری (Strategic Autonomy) کی بات کرتا آ رہا ہے، یعنی یورپ اپنا دفاع خود کرے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ برس یہ کہے جانے کے بعد کہ امریکا کی سیکیورٹی ترجیحات اب کہیں اور ہیں، اس موقف کو مزید حمایت ملی ہے۔
امریکی نیوکلیئر چھتری کے بغیر یورپ غیر محفوظ
مارک روٹے نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نیٹو سے پیچھے ہٹتا ہے تو یورپ اپنی آزادی کے سب سے بڑے ضامن سے محروم ہو جائے گا، یعنی امریکی جوہری تحفظ۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر آپ امریکا کے بغیر رہنا چاہتے ہیں تو پھر… گڈ لک!













