چین کے معروف پالیسی ماہر اور سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر وکٹر گاؤ نے کہا ہے کہ امریکا تائیوان کی نام نہاد علیحدگی کے لیے اپنے کسی فوجی یا افسر کا خون نہیں بہائے گا۔
وکٹر گاؤ کا کہنا تھا کہ تائیوان کی علیحدگی کی حمایت تاریخ کے فطری دھارے کے خلاف ہے اور یہ ون چائنا پالیسی کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ ان کے مطابق عالمی برادری کی اکثریت پہلے ہی اس اصول کو تسلیم کر چکی ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے۔
امریکی پالیسی پر سوالات
چینی ماہر نے کہا کہ اگرچہ امریکا بعض اوقات تائیوان کے حوالے سے سخت بیانات دیتا ہے، لیکن عملی طور پر واشنگٹن تائیوانی علیحدگی پسندوں کے لیے براہِ راست فوجی تصادم کا خطرہ مول نہیں لے گا۔
یہ بھی پڑھیے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے پر چین کی جانب سے امریکی دفاعی کمپنیوں، عہدیداروں پر پابندی
ان کے بقول’امریکا تائیوان کے نام نہاد علیحدگی پسند ایجنڈے کے لیے کسی امریکی فوجی یا افسر کی جان قربان نہیں کرے گا۔‘
ون چائنا اصول کی خلاف ورزی پر تنقید
وکٹر گاؤ نے زور دیا کہ تائیوان کی علیحدگی کی حمایت نہ صرف چین کی خودمختاری کے خلاف ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ون چائنا اصول کی بھی نفی ہے، جس پر اقوامِ متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی فورمز پر اتفاق پایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے تائیوان میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو کچل دیا جائے گا، چین کا واضح پیغام
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تائیوان کے معاملے پر چین اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ چین بارہا اس بات پر زور دے چکا ہے کہ تائیوان اس کا اندرونی معاملہ ہے جس میں کسی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔














