ونڈر بوائے کا تذکرہ چلا تو یاد آیا تحریک انصاف کا بھی ایک ونڈر بوائے ہوتا تھا، کوئی بتا سکتا ہے کہ قافلہ انقلاب کا یہ مردِ بحران آج کل کہاں پایا جاتا ہے؟
اس جواں بخت کا نام پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں پہلی بار سننے کو ملا۔ سرگوشیاں ہونے لگیں کہ زرداری حکومت کا چل چلاؤ ہے کیونکہ ایک ایسا ونڈر بوائے تلاش کر لیا گیا ہے جو ایک سہانی شام کو وزارت عظمیٰ کا حلف لے گا تو روپے کی دستار بندی ہو جائے گی، معیشت قدموں پر اٹھ کھڑی ہو گی، دسمبر گرم ہو جائے گا، خزاں میں پھول کھل اٹھیں گے اور جون میں برفیں اتریں گی۔
پھر جانے کیا ہوا کہ پرستانوں سے آئے اس گھبرو کو تحریک انصاف کے پنگھٹ پر اتار دیا گیا۔ عمران خان کے بعد، یہ واحد گھبرو تھا، سکھیوں نے جس کے لیے گیت گائے۔ یہ تحریک انصاف کا ایسا شہہ بالا تھا جس پر خود دولہا بھی صدقے واری ہوتا تھا۔
عمران خان کے بعد یہ تحریک انصاف کا اکلوتا رہنما تھا جس کی سیاست میں تشریف آوری کو اس قوم پر ایک احسان قرار دیا گیا۔ بتایا جاتا کہ یہ بھی خان صاحب کی طرح شہزادوں جیسی زندگی گزار رہا تھا، اسے کیا ضرورت تھی سیاست کی۔ یہ تو بس قوم کی خدمت کے جذبے سے بے قرار ہوا اور عمران خان کی طرح سیاست میں آ گیا۔
مجنوں نے لیلیٰ کے لیے اتنے گیت نہیں گائے ہوں گے جتنی عمران خان نے اس کے لیے رباعیاں پڑھیں۔ ہر دوسری میٹنگ میں صحافیوں کو بتایا جاتا کہ یہ پہلو میں جو لعل احمر رکھا ہے یہ 80 لاکھ روپے تنخواہ پر نوکری کر رہا تھا لیکن ملک اور قوم کی خاطر اس نے 80 لاکھ کی نوکری کو لات ماری اور سیاست میں آ گیا۔
یہ ونڈر بوائے حلقہ انتخاب سے محروم تھا، اسے اسلام آباد میں لا کر الیکشن لڑوایا گیا۔ اسلام آباد میں نہ مقامی حکومت ہے، نہ یہاں صوبائی اسمبلی ہے نہ کوئی ایم پی اے اس شہر سے ہوتا ہے۔ قومی اسمبلی کا ٹکٹ بھی کسی مقامی کی بجائے اس ونڈر بوائے کو دے دیا گیا۔
ونڈر بوائے عمران خان کی سیاسی ٹیم کا نائب کپتان تھا۔ تحریک انصاف کا میانداد سمجھ لیجیے۔ بس فرق اتنا تھا کہ میانداد کو شاید ہی کبھی کپتان نے اس محبت سے دیکھا ہو جس محبت سے وہ اس ونڈر بوائے کے سہرے کہا کرتا تھا۔
ویسے تو یہ سارا قافلہ انقلاب ہی پانیوں پر کشیدہ کاری جیسا تھا لیکن ونڈر بوائے نے تو حیران ہی کر دیا۔ یہ بائیس سالہ جدوجہد کی آخری بہار کا شگوفہ تھا۔ اقتدار ملا تو معیشت کی زمام کار اس کے حصے میں آئی اور صاحب وزیر خزانہ بن بیٹھے۔ وزیر خزانہ جناب اسد عمر۔
موصوف نے آتے ہی وہ بڑھکیں مارنا شروع کر دیں کہ الامان۔ سیدھے آئی ایم ایف کو طعنے اور کوسنے دیے۔ تیاری تھی نہیں، بس سطحی بیان تھے اور تھم نیل تھے اور سوشل میڈیا کے مجذوبوں کی و اہ واہ کی صدائیں تھیں۔ اس ہاؤ ہو کے تماشے کا نتیجہ یہ نکلا کہ معیشت پاپولزم کی آگ میں جھلس گئی۔ آئی ایم ایف نے پھر ناک سے لکیریں کھنچوائیں تو بانکے میاں سے وزارت لے لی گئی۔ بائیس سالہ جدو جہد میں تیار کی گئی ٹیم کی ہنڈیا تو چوراہے میں اوندھی ہو ہی گئی، ظلم یہ ہوا کہ معیشت بھی اوندھی ہو گئی۔
یہ معلوم انسانی تاریخ کی پہلی حکومت تھی جس کے بعض وزرائے کرام ہاتھ نچا نچا کر کہا کرتے تھے: آئے ہائے بچُو جی، ہم جلد دیوالیہ ہونے والے ہیں، پکی بات ہے، دیکھ لینا تم لوگ۔
اسد عمر صاحب کے پاس کوئی حلقہ انتخاب نہیں تھا۔ وہ پارٹی کے اولین لوگوں میں سے بھی نہیں تھے، پارٹی کے لیے کوئی غیر معمولی خاص خدمات بھی نہیں تھیں، بائیس سالہ طلسماتی جدوجہد میں ان کی شمولیت شاید بائیس مہینوں سے کچھ ہی زیادہ ہو گی۔ لیکن وہ آئے، انہوں نے دیکھا اور وہ چھا گئے۔ وہ پنجاب کے وسیم اکرم پلس سے صرف دو کلو کم وزن کا حیرت کدہ تھے۔
پارٹی پر جیسے ہی مشکل وقت آیا، صاحب برف کی طرح تحلیل ہو گئے۔ کبھی کبھی یاد آتے تو میں دل کو تسلی دیتا کہ ونڈر بوائے شاید عثمان بزدار کے ساتھ مل کر کسی دور افتادہ پہاڑ کی غار میں انقلاب لانے کا کوئی ایسا منصوبہ بنا رہے ہیں اور جلد ہی باہر آ کر وہ اس کا اعلان کریں گے جسے سن کر وادیاں، پہاڑ، چشمے، جھرنے سب جھوم اٹھیں گے کہ کہیں سے ابرار الحق کو لاؤ، ہمارا نچنے نوں دل کر رہا ہے۔
چند روز پہلے ایران اور امریکا میں تناؤ بڑھا تو ونڈر بوائے نے ایک بار پھر للکارا کہ ایران میں کچھ ہوا تو میں بھی ایرانی عوام کے ساتھ میدان میں آ کر رجز پڑھوں گا۔ ونڈر بوائے کے اس ٹویٹ پر ہزاروں دل فدا ہوئے پڑے ہیں لیکن میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ یہ ونڈر بوائے اڈیالہ میں رکھے اپنے رہنما کے لیے تو دو دن گھر سے باہر نہیں نکلا، یہ پڑوس میں جا کر کون سے کمالات دکھائے گا۔
پورس کے ہاتھی تو سن رکھے تھے ، یہ سوشل میڈیا کے ہاتھی پہلی بار دیکھ رہا ہوں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













