ہالی ووڈ اداکارہ کریسٹن اسٹورٹ نے امریکا چھوڑنے کے اپنے منصوبے کی وجوہات بتائیں، اور کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ملک کی صورتحال بگڑ رہی ہے۔
انہوں نے دی ٹائمز آف لندن کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ‘حقیقت ٹوٹ رہی ہے، لیکن ہمیں ٹرمپ کی طرح سوچ کر اپنی مرضی کی حقیقت بنانی چاہیے۔’ جب پوچھا گیا کہ اگر صورتحال نہیں بدلی اور ٹرمپ صدارت جاری رکھتے ہیں تو کیا وہ رہیں گی؟
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی پالیسی سے نالاں ہالی ووڈ اداکارہ کرسٹن کا امریکا چھوڑنے پر غور
اسٹورٹ نے کہا، ‘شاید نہیں۔ وہاں میں آزادانہ کام نہیں کر سکتی، لیکن میں مکمل ہار نہیں ماننا چاہتی۔ میں یورپ میں فلمیں بنانا چاہتی ہوں اور پھر انہیں امریکی عوام تک پہنچانا چاہتی ہوں۔’
ٹرمپ کی دوسری صدارت کے دوران امریکا چھوڑنے والے مشہور شخصیات میں ایلن ڈی جینرس، روزی او ڈونل، آسکر یافتہ جیمز کیمرون، رابن رائٹ اور دیگر شامل ہیں۔
جیمز کیمرون نے نیوزی لینڈ میں فلموں کی شوٹنگ کے دوران وہاں کی زندگی پسند کر لی اور بتایا کہ ان کا امریکہ واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ‘وبا کے بعد نیوزی لینڈ نے وائرس مکمل طور پر ختم کر دیا۔ وہاں کے لوگ زیادہ تر عقل مند ہیں، جبکہ امریکہ میں ویکسینیشن کی شرح 62% ہے اور یہ مزید کم ہو رہی ہے۔ میں وہاں قدرتی مناظر کے لیے نہیں بلکہ عقل و سلیقہ کے لیے گیا ہوں۔’
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کا میکرون کے سن گلاسز پر طنز، عالمی رہنماؤں میں نئی بحث
کیمرون نے مزید کہا، ‘آپ کہاں رہنا پسند کریں گے؟ ایک ایسی جگہ جہاں سائنس پر یقین کیا جاتا ہو، لوگ اکٹھے کام کرتے ہوں، یا ایک ایسی جگہ جہاں سب ایک دوسرے کے خلاف ہوں، شدید پولرائزڈ ماحول ہو، سائنس کو نظرانداز کیا جائے اور اگر دوبارہ وبا آئے تو انتشار پیدا ہو، میں ذہانت کے لیے وہاں ہوں، مناظر کے لیے نہیں۔’














