وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کے خلاف دائر اپیلوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیتے ہوئے درخواستیں مسترد کر دیں اور انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت عائد سپر ٹیکس کو برقرار رکھا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا جس کے مطابق عدالت نے کیس کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق تمام اعتراضات بھی مسترد کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں: سپر ٹیکس سے متعلق قانون سازی میں تضاد، سپریم کورٹ میں اہم نکات سامنے آگئے
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کا سیکشن 4 بی سن 2015 سے نافذ العمل رہے گا۔
جبکہ ہائیکورٹس کی جانب سے سیکشن 4 سی کے حوالے سے دیے گئے فیصلے جزوی طور پر کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت، سپرٹیکس کیخلاف کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا
کیس کے قابل سماعت ہونے پر اعتراضات مسترد، ٹیکس قانون کی سیکشن 4 بی درست قرار،پارلیمنٹ انکم پر ٹیکس لگانے کا اختیار رکھتی ہے،وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا pic.twitter.com/2VklOTxcPo— Zaheer Ahmad Kahloon (@kahloon_zaheer) January 27, 2026
عدالت نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ کو آئین کے تحت آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس حسن رضوی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل بینچ نے کی۔
مزید پڑھیں: سپر ٹیکس کیس: ٹیکس کی شرح حد سے تجاوز کر رہی ہے، ایکسپورٹرز کمپنیوں کا مؤقف
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئل اینڈ گیس سیکٹر میں اگر کسی کی انفرادی طور پر رعایت بنتی ہے وہ متعلقہ فورم سے رجوع کرے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مضاربہ، میوچل فنڈز، اور بینولیٹ فنڈز پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق ہزاروں درخواستوں کی سماعت، کیس کل تک ملتوی
مختلف سیکٹرز سے متعلق الگ قانونی رعایتیں برقرار رہیں گی، وفاقی حکومت کو فیصلے سے 3 سو ارب سے زائد کا فائدہ ہو گا۔
تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: سپر ٹیکس کا ایک روپیہ بھی بے گھر افراد کی بحالی پر خرچ نہیں ہوا، وکیل مخدوم علی خان کا دعویٰ
واضح رہے کہ سپر ٹیکس کا نفاذ 2015 میں مسلم لوگ نواز کے دورِحکومت میں ہوا تھا، جب حکومت نے اِس ٹیکس کو 16-2015 کے بجٹ میں متعارف کروایاتھا۔
اس کے بعد سال 2022 میں اس کو انکم ٹیکس آرڈینینس 2001 کی سیکشن 4 سی میں شامل کردیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: سوال یہ ہے کہ سپر ٹیکس مقصد کے مطابق خرچ ہوئے ہیں یا نہیں، جسٹس جمال خان مندوخیل کے ریمارکس
اس کے تحت پاکستانی معیشت کے 13 ایسے شعبوں پر اس ٹیکس کا نفاذ کیا گیا جو حکومت کے مطابق بہت زیادہ منافع کما رہے تھے۔
سیکشن 4 سی میں سپر ٹیکس کے معیار کی حد کم کرکے 15 کروڑ روپے کردی گئی تھی، جس کو کاروباری کمپنیوں نے پہلے سپریم کورٹ آئینی بینچ اور اب وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر رکھا تھا۔
مزید پڑھیں: ایک مرتبہ سپر ٹیکس لاگو کرنے کے بعد کیا قیامت تک چلے گا، جسٹس محمد علی مظہر کا استفسار
اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکورٹ سپر ٹیکس پر فیصلے دے چکی ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق سپر ٹیکس میں 3 اور 4 فیصد سے 10 فیصد اضافہ نہیں ہوسکتا جبکہ سندھ ہائیکورٹ کے مطابق اس ٹیکس کا اطلاق 2023 سے ہوگا۔













