افغانستان میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کی کھلے عام فروخت ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
بی بی سی افغان سروس کی تحقیق کے مطابق ملک بھر کی منڈیوں میں اصلی اور جعلی ادویات میں فرق کرنا عام شہری کے لیے تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
پاکستان سے ادویات کی سپلائی بند، جعلی دواؤں کا سیلاب
تحقیق کے مطابق جب سے پاکستان سے ادویات کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، افغان شہری سستی اور غیر معیاری ادویات خریدنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
یہ جعلی ادویات نہ صرف بے اثر ہیں بلکہ کئی کیسز میں مریضوں کی حالت مزید بگاڑ دیتی ہیں۔
کمزور صحت کا نظام، طالبان حکومت بے بس
افغانستان کا صحت کا نظام پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت جعلی ادویات کے اس منافع بخش کاروبار کو روکنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، جس کی وجہ سے صورتحال دن بہ دن بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
بی بی سی کی تحقیق میں ڈاکٹر عبدالمجید کے کیس کا ذکر کیا گیا، جنہیں کابل کے سردار داؤد خان اسپتال میں انتہائی تشویشناک حالت میں لایا گیا۔ ان کے پھیپھڑے 80 فیصد تک متاثر ہو چکے تھے۔ بیماری ایک عام انفیکشن سے شروع ہو کر جان لیوا بن گئی۔ 8 ماہ تک علاج جاری رہا، تشخیص اور نسخہ درست تھا، مگر افاقہ نہ ہوا۔ مزید تحقیقات پر معلوم ہوا کہ استعمال کی جانے والی تمام ادویات جعلی تھیں۔
جعلی ادویات کی پہچان تقریباً ناممکن
رپورٹ کے مطابق جعلی ادویات اصلی ادویات جیسی پیکنگ رکھتی ہیں۔ آدھی قیمت پر باآسانی دستیاب ہوتی ہیں۔ بعض اوقات صرف رنگین پانی پر مشتمل ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق بعض اوقات حروف، رنگ یا نشانوں میں معمولی فرق ہی جعلی دوا کی واحد نشانی ہوتا ہے، جو عام آدمی کے لیے پہچاننا ممکن نہیں۔
تحقیقاتی ٹیم نے غزنی صوبے میں ایک ایسے خاندان سے ملاقات کی جن کی خاتون رکن جعلی دوا لینے کے بعد جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔
خاتون کے اہلِ خانہ کے مطابق ڈرِپ لگتے ہی شدید کپکپی شروع ہوئی۔ ہوش کھونے کے بعد قے آئی۔ کچھ ہی دیر میں حالت بگڑ گئی اور موت واقع ہو گئی
حکومتی دعوے اور زمینی حقیقت
کابل فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ انسپکشن ٹیمیں تمام صوبوں میں متحرک ہیں۔ جعلی، اسمگل شدہ اور غیر منظور شدہ ادویات ضبط کی جا رہی ہیں۔ تاہم لاکھوں ڈالر کی اس مارکیٹ میں حکومتی نگرانی سمندر میں قطرے کے مترادف ہے۔
اگرچہ کچھ مریض، جیسے ڈاکٹر عبدالمجید، اصلی دوا ملنے کے بعد صحت یاب ہو رہے ہیں، لیکن بے شمار افراد اتنے خوش نصیب نہیں تھے۔
جعلی ادویات افغان عوام کے لیے خاموش قاتل بن چکی ہیں، جو ہر روز نئی جانیں نگل رہی ہیں۔












