بلوچستان حکومت نے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے صوبائی محکمہ مذہبی امور کو ختم کرنے کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف کا اسلام آباد گیس دھماکا متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکمہ مذہبی امور کے خاتمے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن آئندہ ایک ہفتے کے اندر جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
نوٹیفکیشن کے بعد صوبائی سیکریٹریٹ میں تعینات ملازمین کو محکمہ نظم و نسق کے حوالے کر دیا جائے گا۔
اسامیاں ختم
حکومتی فیصلے کے بعد محکمہ مذہبی امور سے وابستہ تقریباً 450 سرکاری اسامیاں ختم ہو گئی ہیں جبکہ محکمے کی تمام جائیدادیں، دفاتر، گاڑیاں اور دیگر اثاثے بورڈ آف ریونیو کے حوالے کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیے: حج کوٹہ 2 لاکھ 30 ہزار کرنے کے لیے سعودی حکام سے رابطے میں ہیں، وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف
اضلاع میں تعینات عملہ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے ماتحت جبکہ ڈویژنل سطح پر کام کرنے والا عملہ کمشنرز کو رپورٹ کرے گا۔
فنڈز منتقل
رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں محکمہ مذہبی امور کے تحت موجود زکوٰۃ فنڈ میں جمع تقریباً 4 ارب روپے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔














