عمران خان کو اسپتال لایا گیا مگر صحت سے متعلق کچھ بتایا نہیں جا رہا، اپوزیشن اتحاد کا اظہار تشویش

بدھ 28 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اپوزیشن اتحاد نے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کیا گیا تاہم اس بارے میں نہ پارٹی قیادت اور نہ ہی اہل خانہ کو آگاہ کیا گیا۔

اپوزیشن اتحاد اور پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس حوالے سے پریس کانفرنس کی، جس میں بیرسٹر گوہر، راجا ناصر عباس اور سلمان اکرم راجا شریک تھے۔

مزید پڑھیں: عمران خان کے ہاتھ میں بیماری کی لکیر نہیں، بانی پی ٹی آئی سے متعلق اوریا مقبول جان کے حیران انکشافات

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہاکہ عمران خان سے آخری ملاقات 20 دسمبر کو ہوئی تھی اور اس کے بعد آج تک ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات کے لیے پٹیشن بھی دائر کی گئی مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

بیرسٹر گوہر کے مطابق ایک اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ عمران خان کو اسپتال لے جایا گیا اور پھر جیل واپس منتقل کردیا گیا، جس پر پارٹی اور اہل خانہ میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے کیونکہ اب تک یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کس بیماری کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا۔

بیرسٹر گوہر نے مزید کہاکہ اقتدار کی خاطر آئین میں ترامیم کی جا رہی ہیں جس سے عوام میں حکمرانوں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ 8 فروری تک ملاقاتوں پر پابندی نہ لگائی جائے اور فوری طور پر عمران خان سے ملاقات کروائی جائے۔

حکمران عوام کی نظروں میں مسلسل گر رہے ہیں، علامہ ناصر عباس

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہاکہ یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ عمران خان کو اسپتال لایا گیا مگر اس حوالے سے پارٹی اور ان کے اہل خانہ لاعلم رہے۔

انہوں نے کہاکہ ایسے اقدامات سے حکمران عوام کی نظروں میں مسلسل گر رہے ہیں اور انہیں اس کا جواب دینا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو عوام پہلے ہی انہیں مسترد کر چکے ہیں اور تمام رکاوٹوں کے باوجود اپنی رائے کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ اگر عمران خان آج آزاد ہوتے تو عالمی سطح پر بعض فیصلے مختلف ہوتے، جبکہ غزہ کے معاملے پر بھی حکومت نے کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کیا۔

علامہ راجا ناصر عباس نے کہاکہ یہ سمجھا گیا کہ نشان چھین کر اور کارنر میٹنگز روک کر سیاسی آواز دبائی جا سکتی ہے، مگر عوامی ردعمل سب کے سامنے ہے۔

ان کے مطابق 8 فروری کے انتخابات کے بعد سیاسی بحران میں اضافہ ہوا، بے روزگاری بڑھی اور کسانوں کو نقصان اٹھانا پڑا، اسی تناظر میں 8 فروری کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی سے نہ ملنے دینا کسی صورت قبول نہیں، سلمان اکرم راجا

پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہاکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں کی اجازت نہ دینا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے واضح کیاکہ عمران خان کے ذاتی معالج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، اس کے باوجود ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

سلمان اکرم راجا کے مطابق اس حوالے سے دائر پٹیشن کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے مؤخر کردیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیاکہ عمران خان کو اپنے ذاتی معالج اور اہل خانہ سے ملنے کی اجازت دی جائے، کیونکہ یہ طرزِ عمل سراسر ظلم کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ملک میں سیاست کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم وہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جو آئین اور قانون کے خلاف ہو، اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی ناراضی کا اظہار کریں۔

عمران خان سے خاندان اور پارٹی قیادت کی ملاقات کرائی جائے، اسد قیصر

پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اسد قیصر نے کہاکہ آج ایک اخبار میں عمران خان کی صحت کے حوالے سے خبر شائع ہوئی ہے کہ انہیں علاج کے لیے پمز اسپتال اسلام آباد لے جایا گیا تھا، ہمیں اس حوالے سے گہری تشویش ہے۔

مزید پڑھیں: آنکھ میں انفیکشن، کیا عمران خان کو پمز اسپتال لایا گیا؟

انہوں نے کہاکہ جلد از جلد عمران خان سے ان کے خاندان اور پارٹی قیادت کی ملاقات کرائی جائے۔

’ملک میں اس وقت جنگل کا قانون رائج ہے، ملک بنانا ریپبلک بن چکا ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ ہم کسی قانون اور عدالت کو نہیں مانتے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈپریشن اور انگزائٹی خواتین کو بیماری کے خطرے کے قریب لے جا رہی ہیں

عمران خان کے آنکھوں کے علاج سے متعلق ذاتی معالج ڈاکٹر خرم مرزا کا اہم بیان سامنے آ گیا

صدر زرداری کا قومی کرکٹ ٹیم کی فتح پر اظہارِ مسرت

برطانیہ: جنسی جرائم اور ڈکیتی کے کیسز میں تاریخی اضافہ

اداکارہ علیزے شاہ کا معروف گلوکارہ شازیہ منظور پر بے ایمانی کا الزام

ویڈیو

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

خیبر پختونخوا میں آج بھی جنرل فیض کی ٹیم بیوروکریسی کے اہم عہدوں پر اور صوبے کی کرتا دھرتا ہے، اختیار ولی خان

کالم / تجزیہ

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی