اپوزیشن اتحاد نے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کیا گیا تاہم اس بارے میں نہ پارٹی قیادت اور نہ ہی اہل خانہ کو آگاہ کیا گیا۔
اپوزیشن اتحاد اور پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس حوالے سے پریس کانفرنس کی، جس میں بیرسٹر گوہر، راجا ناصر عباس اور سلمان اکرم راجا شریک تھے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کے ہاتھ میں بیماری کی لکیر نہیں، بانی پی ٹی آئی سے متعلق اوریا مقبول جان کے حیران انکشافات
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہاکہ عمران خان سے آخری ملاقات 20 دسمبر کو ہوئی تھی اور اس کے بعد آج تک ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات کے لیے پٹیشن بھی دائر کی گئی مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
عمران خان کو اسپتال لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ آپ جو ملاقات کی اجازت نہیں دے رہے اس سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں عمران خان کی ملاقات کروائی جائے اور عمران خان کی صحت کے حوالے سے ہمیں تفصیل سے بتایا جائے۔بیرسٹر گوہر pic.twitter.com/aFcq3g515q
— Ali Tanoli (@alitanoli889) January 28, 2026
بیرسٹر گوہر کے مطابق ایک اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ عمران خان کو اسپتال لے جایا گیا اور پھر جیل واپس منتقل کردیا گیا، جس پر پارٹی اور اہل خانہ میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے کیونکہ اب تک یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کس بیماری کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہاکہ اقتدار کی خاطر آئین میں ترامیم کی جا رہی ہیں جس سے عوام میں حکمرانوں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ 8 فروری تک ملاقاتوں پر پابندی نہ لگائی جائے اور فوری طور پر عمران خان سے ملاقات کروائی جائے۔
حکمران عوام کی نظروں میں مسلسل گر رہے ہیں، علامہ ناصر عباس
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہاکہ یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ عمران خان کو اسپتال لایا گیا مگر اس حوالے سے پارٹی اور ان کے اہل خانہ لاعلم رہے۔
انہوں نے کہاکہ ایسے اقدامات سے حکمران عوام کی نظروں میں مسلسل گر رہے ہیں اور انہیں اس کا جواب دینا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو عوام پہلے ہی انہیں مسترد کر چکے ہیں اور تمام رکاوٹوں کے باوجود اپنی رائے کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ اگر عمران خان آج آزاد ہوتے تو عالمی سطح پر بعض فیصلے مختلف ہوتے، جبکہ غزہ کے معاملے پر بھی حکومت نے کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کیا۔
علامہ راجا ناصر عباس نے کہاکہ یہ سمجھا گیا کہ نشان چھین کر اور کارنر میٹنگز روک کر سیاسی آواز دبائی جا سکتی ہے، مگر عوامی ردعمل سب کے سامنے ہے۔
ان کے مطابق 8 فروری کے انتخابات کے بعد سیاسی بحران میں اضافہ ہوا، بے روزگاری بڑھی اور کسانوں کو نقصان اٹھانا پڑا، اسی تناظر میں 8 فروری کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی سے نہ ملنے دینا کسی صورت قبول نہیں، سلمان اکرم راجا
پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہاکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں کی اجازت نہ دینا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے واضح کیاکہ عمران خان کے ذاتی معالج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، اس کے باوجود ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
سلمان اکرم راجا کے مطابق اس حوالے سے دائر پٹیشن کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے مؤخر کردیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیاکہ عمران خان کو اپنے ذاتی معالج اور اہل خانہ سے ملنے کی اجازت دی جائے، کیونکہ یہ طرزِ عمل سراسر ظلم کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ ملک میں سیاست کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم وہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جو آئین اور قانون کے خلاف ہو، اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی ناراضی کا اظہار کریں۔
عمران خان سے خاندان اور پارٹی قیادت کی ملاقات کرائی جائے، اسد قیصر
پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اسد قیصر نے کہاکہ آج ایک اخبار میں عمران خان کی صحت کے حوالے سے خبر شائع ہوئی ہے کہ انہیں علاج کے لیے پمز اسپتال اسلام آباد لے جایا گیا تھا، ہمیں اس حوالے سے گہری تشویش ہے۔
آج ڈان اخبار میں عمران خان کی صحت کے حوالے سے خبر شائع ہوئی ہے کہ انہیں علاج کے لیے پمز ہسپتال اسلام آباد لے جایا گیا تھا۔ ہمیں عمران خان کی صحت کے بارے میں گہری تشویش ہے۔انہوں نے کہا کہ جلد از جلد عمران خان سے ان کے خاندان اور پارٹی قیادت کی ملاقات کرائی جائے۔ ملک میں اس وقت… pic.twitter.com/tqL2KLgDCM
— Asad Qaiser (@AsadQaiserPTI) January 28, 2026
مزید پڑھیں: آنکھ میں انفیکشن، کیا عمران خان کو پمز اسپتال لایا گیا؟
انہوں نے کہاکہ جلد از جلد عمران خان سے ان کے خاندان اور پارٹی قیادت کی ملاقات کرائی جائے۔
’ملک میں اس وقت جنگل کا قانون رائج ہے، ملک بنانا ریپبلک بن چکا ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ ہم کسی قانون اور عدالت کو نہیں مانتے۔‘














