امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈالر کی قدر کے حق میں دیے گئے خوش کن بیانات کے باوجود امریکی کرنسی دباؤ کا شکار ہے اور 4 سال کی کم ترین سطح پر آچکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونا خریدنا خواب بن گیا، فی تولہ قیمت نے تاریخ کا سب سے بڑا ریکارڈ توڑ دیا
ڈالر کی موجودہ صورتحال سے متعلق سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ڈالر بہت زبردست ہے اور اس کی قدر بہترین جا رہی ہے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں چین اور جاپان اپنی کرنسی کی قدر کم کرنے کی کوشش کرتے تھے جس پر وہ سخت مؤقف اختیار کرتے رہے۔
تاہم صدر ٹرمپ کے ان بیانات کے فوراً بعد ہی ڈالر کی قدر میں مزید کمی دیکھنے میں آئی اور گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اب تک ڈالر تقریباً 2.8 فیصد گر چکا ہے جس کے باعث وہ 4 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔
مزید پڑھیے: ٹرمپ کی پالیسی سے نالاں ہالی ووڈ اداکارہ کرسٹن کا امریکا چھوڑنے پر غور
ماہرین کے مطابق گزشتہ چند ماہ سے ڈالر مختلف وجوہات کی بنا پر کمزور ہو رہا ہے جن میں درآمدات پر ٹیرف لگانے کی دھمکیاں، امریکی فیڈرل ریزرو کی خودمختاری پر سوالات، شرحِ سود میں ممکنہ کمی اور بڑھتا ہوا مالی خسارہ شامل ہیں۔
ڈالر پر اعتماد میں کمی کے باعث سرمایہ کار اب محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رجوع کر رہے ہیں اور خاص طور پر دھاتوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں بدھ کے روز سونے کی قیمت 5200 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
کیپیٹل کے سینیئر مارکیٹ اینالسٹ کائل روڈا کے مطابق یہ امریکی ڈالر پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کے بحران کی واضح علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ٹرمپ انتظامیہ اپنی غیر متوقع تجارتی، خارجہ اور معاشی پالیسیوں پر قائم رہتی ہے ڈالر کی یہ کمزوری برقرار رہ سکتی ہے۔














