انڈونیشیا میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 38 تک پہنچ گئی جبکہ درجنوں افراد ابھی بھی لاپتا ہیں، حکام نے بدھ کو بتایا، یہ حادثہ چند دن پہلے ایک پہاڑی گاؤں سے ملبہ بہنے کے باعث پیش آیا تھا۔
بھاری بارشوں کی وجہ سے ہفتے کے روز پاسرلانگو گاؤں میں لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس نے درجنوں مکانات تباہ کردیے اور سیکڑوں افراد کو بے گھر کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا کے تلاؤد جزیرے پر 6.8 شدت کا زلزلہ
بندونگ سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ آدے دیان پرمانا کے مطابق بدھ شام 6:30 بجے تک 38 لاشیں شناخت کی جاچکی ہیں جبکہ 27 افراد لاپتا ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں جاوا جزیرے کے ویسٹ بندونگ علاقے میں غیر مستحکم زمین پر ہاتھوں اور بھاری مشینری کے ذریعے امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں، لیکن شدید موسم کی وجہ سے مزید لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے باعث احتیاط سے کام کر رہی ہیں۔
انڈونیشین نیوی کے مطابق 23 فوجی بھی اس حادثے میں پھنس گئے، جو انڈونیشیا کی پاپوا نیو گنی سرحد پر تعیناتی سے قبل علاقے میں ٹریننگ کررہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: جنوب مشرقی ایشیا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی؛ ہلاکتیں 1,750 سے تجاوز
مقامی حکام کے مطابق اس آفت سے 50 سے زائد مکانات شدید متاثر ہوئے اور 650 سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے۔
ویسٹ جاوا کے گورنر ڈیڈی مولیادی نے لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ پاسرلانگو کے ارد گرد پھیلے سبزیوں کی کاشت کے لیے استعمال ہونے والے وسیع پلانٹیشنز کو قرار دیا اور متاثرہ رہائشیوں کو منتقل کرنے کا وعدہ کیا۔
حکومت نے گزشتہ سال سماراٹا جزیرے میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ میں جنگلات کی کمی کے کردار کی نشاندہی کی تھی، جس میں تقریباً ایک ہزار 200 افراد جاں بحق اور 2 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ بے گھر ہوئے تھے۔ جنگلات بارش کو جذب کرنے اور زمین کو جڑوں کے ذریعے مستحکم رکھنے میں مدد دیتے ہیں اور ان کی کمی لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بڑھا دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلپائن اور انڈونیشیا میں 7.4 شدت زلزلے کے بعد سونامی کا خطرہ ٹل گیا
انڈونیشیا کے وسیع جزائر میں بارش کے موسم کے دوران، جو عموماً اکتوبر سے مارچ تک رہتا ہے، اس قسم کے حادثات عام ہیں۔













