سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا ایک جامع معائنہ کیا تاکہ بنیادی ڈھانچے کی تیاری، مسافروں کی سہولت، عملی کارکردگی اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جا سکے۔
معائنہ کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین سینٹر طلحہ محمود نے کی، جبکہ سینٹر مولانا عطا الحق بھی موجود تھے۔ یہ دورہ کمیٹی کے نگرانی ایجنڈے کے تحت کیا گیا تاکہ ملکی اہم بین الاقوامی دروازوں میں ہوائی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کی جانچ کی جا سکے۔
مزید پڑھیں: وزیرِ داخلہ کا ایئرپورٹ کا اچانک دورہ: امیگریشن کارکردگی کا جائزہ، ویزا ایجنٹ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم
دورے کے دوران پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA)، پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی(PAA)، ائیرپورٹ مینیجر اسلام آباد اور ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس (ASF) کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں ائیرپورٹ کی صلاحیت، بنیادی ڈھانچہ، مسافروں کی شکایات، سیکیورٹی تعاون اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ شامل تھا۔
PCAA نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ سالانہ 9 ملین مسافروں اور 100,000 ٹن کارگو کے انتظام کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مسافروں کی شکایات، بالخصوص نماز کے مقامات، صفائی، بیت الخلاء اور لیکیجز کے مسائل پر اقدامات جاری ہیں۔ رن ویز اور ٹیکسی ویز کی حالت کا جائزہ لیا گیا اور یقینی بنایا گیا کہ ریگولر معائنہ اور مینٹیننس پروٹوکولز موجود ہیں۔
ائیرپورٹ میں 5,343 مسافروں کے لیے نشستیں، 3,250 بیگ ٹرالیز، 9 نماز کے مقامات، 90 سیٹ والے 370 بیت الخلا، 17 بیبی چینج رومز، 2 بچوں کے کھیلنے کے مقام اور 6 چارجنگ پوائنٹس موجود ہیں۔ مسافروں کی سہولت کے لیے 26 گولف کارٹس (19 روانگی، 7 آمد)، اور 6 پسینجر برج بھی فراہم کیے گئے ہیں۔
ٹرمینل کی 17 سطحوں پر 11 بین الاقوامی اور 6 ملکی ایریاز، 112 ڈیپارچر لاؤنجز (80 بین الاقوامی، 32 ملکی)، 35 بریفنگ کاؤنٹرز، 10 امیگریشن کاؤنٹرز، اور بیگیج سیکیورٹی کے لیے 20 مشینیں موجود ہیں۔ چینی مسافروں کے لیے الگ لاؤنج بھی قائم کیا گیا ہے۔
سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے ASF نے موجودہ پاسینجر اسکریننگ، رسائی کنٹرول اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون پر بریفنگ دی۔ ASF نے جنوری 2026 میں 10 ملین روپے کی ریکوری، 655 ارب روپے کی ضبطی، 18 کلو سونے کی وصولی، اور 1,370 ہتھیاروں کی ضبطی کی اطلاع دی۔ مزید 3,000 نئے AI بیسڈ نگرانی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ایئرپورٹ پر ٹریفک کنٹرولر کی بروقت مداخلت، غیر ملکی طیارہ حادثے سے بچ گیا
اہم ترقیاتی منصوبوں میں جنرل ایوی ایشن ایریا، لائن مینٹیننس، MRO اور متعلقہ انفراسٹرکچر (جون 2028 تک)، رین واٹر ہارویسٹنگ کاسانہ ڈیم (دسمبر 2028)، اسٹیٹ لاؤنج کی بحالی (جنوری 2026)، CIP لاؤنج کی اپگریڈیشن (فروری 2026)، اور PYC چھت کا متبادل (جون 2026) شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، بیرونی لائٹنگ LED میں تبدیل اور ایئر سائیڈ کے لیے الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروا دی گئی ہیں۔
چیئرمین سینٹر طلحہ محمود نے علاقائی فضائی رابطے کی اہمیت پر زور دیا اور ہدایت کی کہ گلگت اور ڈیرہ اسماعیل خان کی فلائٹس ہفتے میں کم از کم ایک بار آپریشنل ہوں۔ انہوں نے حج فلائٹس اور حجاج کرام کی سہولت اور سیکیورٹی پر بھی خصوصی ہدایت دی۔
چیئرمین نے اختتام پر کہا کہ سینیٹ کمیٹی برائے دفاع ائیرپورٹ انفراسٹرکچر، مسافروں کی سہولت اور سیکیورٹی معیارات کا باقاعدگی سے جائزہ لیتی رہے گی تاکہ عوامی مفاد، عملی کارکردگی اور ملکی و بین الاقوامی ہوائی معیار کی تعمیل یقینی بنائی جا سکے۔













