لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ داتا دربار مین گیٹ کے قریب ماں اور بیٹی کے مین ہول میں گرنے کی اطلاع بعد ازاں جھوٹی ثابت ہوگئی۔
مزید پڑھیں: کراچی میں گٹر میں گرنے والے 3 سالہ بچے کی لاش 14 گھنٹے بعد مل گئی
ریسکیو 1122 کے مطابق موصول ہونے والی کال کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے ریسکیو ٹیمیں، اسپیشلائزڈ یونٹس اور غوطہ خور چند ہی منٹوں میں موقع پر پہنچ گئے۔
لاہور کے بھاٹی گیٹ کے قریب کھُلے مین ہول (گٹر) میں ایک خاتون اور اُن کی بیٹی گر گئیں، ریسکیو اہلکار تلاش کر رہے ہیں۔ pic.twitter.com/0gNh81j7ih
— A.Waheed Murad (@awaheedmurad) January 28, 2026
ریسکیو 1122 پنجاب اور لاہور انتظامیہ کی جانب سے داتا دربار کے قریب بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کیا گیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جس سیوریج ہول کی نشاندہی کی گئی تھی، تکنیکی طور پر اس میں کسی انسان کے ڈوبنے کا امکان ہی نہیں تھا۔
’سیوریج لائن کا تفصیلی معائنہ کیا گیا تاہم کافی کوششوں کے باوجود کسی بھی قسم کے حادثے کے شواہد نہیں ملے۔‘
لاہور انتظامیہ کے مطابق تحقیقات کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ ماں اور بیٹی کے مین ہول میں گرنے کی اطلاع درست نہیں تھی اور یہ خبر فیک نکلی۔
ریسکیو حکام نے کہا کہ جان بچانے کے مقدس جذبے کے تحت تمام وسائل فوری طور پر متحرک کیے گئے، تاہم موقع پر کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل کالر کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک خاتون اپنی بیٹی کے ہمراہ کھلے گٹر میں گر گئی ہے، جس پر ریسکیو 1122 نے سرچ آپریشن شروع کیا تھا۔ بعد ازاں حقائق سامنے آنے پر اس اطلاع کو بے بنیاد قرار دے دیا گیا۔
وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے خبر کو بے بنیاد قرار دے دیا
دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے لاہور کے علاقے داتا دربار کے سامنے ماں اور بچی کے کھلے مین ہول میں گرنے کی خبر کو بے بنیاد قرار دے دیا۔
انہوں نے بھاٹی گیٹ، پرندہ مارکیٹ کے قریب سعدیہ نامی خاتون اور اس کی 3 ماہ کی بیٹی کے مین ہول میں گرنے سے متعلق گردش کرنے والی اطلاع کو جعلی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا لودھراں میں بچے کے مین ہول میں گرنے پر غم و غصہ، ڈپٹی کشمنر کو ہٹانے کا حکم
عظمیٰ بخاری نے کہاکہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اطلاع ملتے ہی فوری طور پر متحرک ہوئیں اور مکمل جانچ پڑتال کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ ماں اور بیٹی کے ڈوبنے کی خبر درست نہیں تھی۔
انہوں نے ریسکیو اہلکاروں کی بروقت کارروائی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔














