اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے امریکا کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں ایران ایسا ردعمل دے گا جو ماضی میں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔
بدھ کے روز جاری بیان میں ایرانی مشن نے واضح کیاکہ ایران باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے آمادہ ہے، تاہم دباؤ یا جارحیت کی صورت میں ملک اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور بھرپور جواب دے گا۔
Last time the U.S. blundered into wars in Afghanistan and Iraq, it squandered over $7 trillion and lost more than 7,000 American lives.
Iran stands ready for dialogue based on mutual respect and interests—BUT IF PUSHED, IT WILL DEFEND ITSELF AND RESPOND LIKE NEVER BEFORE! pic.twitter.com/k3fVEv1rus
— I.R.IRAN Mission to UN, NY (@Iran_UN) January 28, 2026
ایرانی مشن نے اپنے بیان میں یہ بھی یاد دلایا کہ امریکا کو عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھاری مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑا، جہاں اسے 7 کھرب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا جبکہ سات ہزار سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے۔
یہ بیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیا گیا، جس کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ پوسٹ کا اسکرین شاٹ بھی شامل تھا۔ صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں ایران کی جانب ایک بڑے بحری بیڑے کی روانگی کا اعلان کیا تھا۔
امریکی صدر کے مطابق یہ بحری بیڑا وینزویلا بھیجے گئے بیڑے سے بھی بڑا ہے، جس کی قیادت طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ بیڑا ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال کے ذریعے اپنا مشن فوری طور پر مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس کے ساتھ ساتھ امید ظاہر کی کہ ایران جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ایک منصفانہ اور مساوی معاہدے پر آمادہ ہوگا، جس میں جوہری ہتھیار شامل نہ ہوں اور جو تمام فریقین کے لیے بہتر ہو۔
واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ برس بھی ایران پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد دعویٰ کیا گیا کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات تباہ کردی گئی ہیں۔














