کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

جمعرات 29 جنوری 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یہ سنہ 2009 کی بات ہے جب ممتاز بزرگ صحافی محمود شام صاحب کے صاحبزادے سلیم محمود نے ہم سے پوچھا، تم نے فیس بک اکاؤنٹ بنایا ہے؟ ہم نے جواب سوال کی صورت دیتے ہوئے پوچھا ’اس کا لوگو مختلف ویب سائٹس پر دیکھا تو ہے مگر سمجھ ہی نہیں پائے کہ یہ ہے کیا چیز، کیا تم اس کے اغراض و مقاصد سمجھا سکتے ہو؟‘

یوں سلیم نے ہمیں صرف فیس بک سے متعارف ہی نہیں کرایا بلکہ بقلم خود ہمارا اکاؤنٹ بھی بنا کر دیدیا۔ اگلے 5 سال ہم نے اس کا یہی استعمال کیا کہ ڈیڑھ 2 ماہ بعد اس پر لاگ اِن ہوکر کوئی خبر ڈال دیتے یا تصویر۔ اس پر 2،3 لائیکس آجاتے اور ہم خوش ہولیتے۔ سنہ 2014 کے شروع میں میں سبوخ سید اور وحید مراد ایک ساتھ پیچھے پڑ گئے کہ تم فیس بک پر باقاعدگی سے لکھنا شروع کرو۔ ایک 2 ماہ تو ہم نہ مانے لیکن مارچ 2014 سے لکھنا شروع کردیا۔

5 سال سے جو فرینڈ لسٹ 284 نفوس پر مشتمل تھی وہ اگلے 6 ماہ میں 5 ہزار کی حد کو جا پہنچی۔ اگلے 6 سال میں فالوورز بھی 75 ہزار ہوگئے۔ یہ فیس بک ہی نہیں بلکہ پورے سوشل میڈیا کا دور عروج تھا۔ کوئی سنسر شپ تھی، اور نہ ہی ریچ رسٹرکشن۔ ہٹلر اور اس کے نازیوں سے لے کر اسامہ بن لادن اور اس کی القاعدہ تک کسی کا بھی ذکر خیر یا بد کیا جاسکتا تھا۔ اس دوران امریکا سے ہی ایسی مستند  ڈاکومنٹریز بھی سامنے آگئی تھیں جن میں ثابت کیا گیا تھا کہ سوشل میڈیا کا سب سے بڑا فائدہ سی آئی اے اور ایم آئی سکس جیسی ایجنسیاں اٹھا رہی ہیں۔ اور یہ فوائد دنیا بھر میں ان انقلابات کی صورت نظر آئیں گے جو دکھتے تو عوامی انقلاب ہوں گے مگر فی الحقیقت یہ امریکا کی ’رجیم چینج‘ اسکیم کا حصہ ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کیمرے کا نشہ

ہم سب عرب اسپرنگ اور جارجیا بغاوت کی صورت ہی اس کے نظائر نہ دیکھ چکے تھے بلکہ پاکستان میں یوتھیوں کی صورت انہیں بھگت بھی رہے تھے۔ مگر عرب اسپرنگ کے دوران مصر میں جو ہوا تھا اس نے عالمی ایجنسیوں کے ہوش اڑا دیے تھے۔ وہاں سوشل میڈیا کی بوتل سے وہ اخوانی جن نکل آیا تھا جو نہ تو پیور عرب ممالک کو قبول تھا اور نہ ہی امریکا کو۔ اس جن کو تو کسی نہ کسی صورت انہوں نے واپس بوتل تک پہنچا دیا مگر خطرے کی محض گھنٹی نہیں گھنٹال تو بج چکا تھا۔ یہ بات واضح ہوگئی تھی سوشل میڈیا کا جو فائدہ عالمی ایجنسیاں اٹھانے کی کوشش کر رہی تھیں وہی فوائد امریکا مخالف بھی اٹھانے کی صلاحیت حاصل کرچکے تھے۔

اگر آپ یاد کریں تو اسی دور میں مشرق وسطیٰ میں ایک اور کھیل بھی 2017ء سے چل پڑا تھا۔ عرب اسپرنگ ایران کے ساتھ ہونے والے مغربی ممالک کے اس معاہدے کے بعد شروع ہوا تھا جس کے تحت ایران نے ایٹمی پروگرام سے دستبرداری کے عوض تجارتی پابندیوں سے آزادی ہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ پر بالادستی بھی حاصل کرنی تھی۔ لیکن ڈونلڈٹرمپ کی جیت نے عالمی اسٹیبلیشمٹ کا سارا مزہ کرکرا کردیا۔ٹرمپ نے ایران سے ہونے والے معاہدے کو پھینکا ڈسٹ بن میں اور عرب ممالک کو پھر سے قریب کرلیا۔  مگر بات یہیں تک نہ رہی، بلکہ ٹرمپ نے امریکا کی داخلی سیاست میں سوشل میڈیا کا استعمال اس مہارت سے شروع کردیا تھا کہ خود امریکا پر ہی ڈیپ اسٹیٹ کا کنٹرول خطرے میں پڑ گیا تھا۔

ایسے میں آیا نومبر 2020 کا امریکی صدارتی الیکشن۔ جسے جوبائیڈن نے جیتا۔ بائیڈن نے 20 جنوری 2021 کو صدارت سنبھالنی تھی لیکن اتنا انتظار بھی ڈیپ اسٹیٹ کے لیے طویل تھا۔ سو بائیڈن نے جو کچھ آنے والی 20 جنوری کے بعد کرنا تھا وہ دسمبر 2020 سے ہی شروع ہوگیا۔ سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم سے لاکھوں اکاؤنٹس ڈس ایبل ہونے شروع ہوگئے۔ خود ہمارا 2009ء والا اکاؤنٹ بھی یہ کہہ کر اڑا دیا گیا کہ تم نے ہٹلر اور القاعدہ وغیرہ کا ذکر کر رکھا ہے۔ حالانکہ وہ ذکر تنقیدی پیرائے میں ہوا تھا، مگر اب ہم اس دور میں داخل ہوچکے تھے جہاں ذکر تک ممنوع تھا۔ ہم کیا بیچتے ہیں محض چار ہفتے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی بند کردیا گیا۔ کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے جین زی سوشل میڈیا کے استعمال میں ڈیپ اسٹیٹ پر مکمل بالادستی حاصل کرچکے تھے۔

مگر بائیڈن صدارت کے دوران امریکا میں معاملہ محض سوشل میڈیا پر سنسر شپ تک رہا نہیں۔ مین اسٹریم میڈیا سے بھی ایسے نامور صحافی باہر کیے جانے لگے جو  ٹرمپ کی حمایت کرکے ڈیپ اسٹیٹ کے لیے درد سر بن رہے تھے۔ مگر اس غلطی کا ڈیپ اسٹیٹ کو بڑا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ جنہیں مین اسٹریم میڈیا سے نکالا گیا، وہ اب یوٹیوب پر سرگرم تھے اور ان میں سے ایک ایک کی ریچ سی این این کی پورے دن کی ریچ  سے زیادہ تھی۔ مثلا سی این این پرائم ٹائم کے 3 لاکھ ویورز تھے جبکہ ٹکر کارلسن کی ایک ایک ویڈیو ملینز میں دیکھی جا رہی تھی۔ امریکا اور یورپ یوکرین جنگ شروع ہوتے ہی رشین میڈیا پر مکمل پابندی لگا چکے تھے۔ خود مغربی میڈیا پر بھی رشین مؤقف پیش کرنا جرم بنادیا گیا تھا۔ ایسے میں ٹکر کارلسن نے ماسکو جاکر صدر پیوٹن کا طویل انٹرویو کیا اور اسے ٹوئٹر و یوٹیوب سے ایئر کیا تو ویورشپ کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔

یہ انٹرویو ڈیپ اسٹیٹ کی میڈیا پالیسی کے خلاف مزاحمت کی بڑی علامت بن گیا۔ جس نے ٹرمپ کے حامیوں کے حوصلے آسمان تک پہنچا دیے۔ ٹکر کارلسن کے خلاف کوئی ایکشن ہوا اور نہ ہی ان کا اکاؤنٹ بند کیا گیا۔ جو اس بات کی واضح علامت تھا کہ اس جنگ میں ڈیپ اسٹیٹ بیک فٹ پر جا رہی ہے۔

ایسے میں جب غزہ کا معاملہ پیش آیا اور اسرائیل نے وہاں نسل کشی کی بدترین مثال قائم کرنی شروع کی تو جلد ہی سوشل میڈیا کا استعمال اس لیول پر پہنچ گیا جہاں امریکا کی ڈیموکریٹک پارٹی ہی نہیں بلکہ ٹرمپ کے ہمنوا بھی اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف کے ساتھ سرگرم ہوگئے۔ یہ ڈیپ اسٹیٹ کے لیے سب سے بدترین صورتحال تھی۔ کیونکہ غزہ سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ڈیپ اسٹیٹ والے مؤقف کے ساتھ تھے۔ اس نئی صورتحال میں دونوں ہی پارٹیاں اسرائیل مخالف موقف پر یکجا ہوگئیں۔ مگر بات اتنی سمپل نہ تھی۔ بلکہ ایک اور چیز بھی ہوگئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیپ اسٹیٹ اسرائیل کی حمایت میں ایک ہوگئے۔ جس کا خمیازہ ٹرمپ کو اپنے ہی ماگا کیمپ میں بڑی تقسیم کی صورت بھگنا پڑ رہا ہے۔

مزید پڑھیے: کینیڈا کے انڈے

ان پے درپے ناکامیوں کے بعد اب ڈیپ اسٹیٹ کی مدد کو امریکی لابی آگئی ہے۔ اور اس نے امریکی مین اسٹریم میڈیا ہی نہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی خریدنے شروع کردیے ہیں۔ اسرائیل کے لیے ڈراؤنا خواب بن جانے والے ٹک ٹاک کے نئے سی ای او ایڈم پریسر نے 2 روز قبل ٹی وی انٹرویو میں بڑے فخر کے ساتھ بتایا ہے۔

’ہم نے ٹک ٹاک کے الگورتھم میں یہ تبدیلی کردی ہے کہ اب وہاں صیہونیت پر تنقید کو ہیٹ اسپیچ کے طور پر ٹریٹ کیا جائے گا۔ ٹک ٹاک پر اب صیہونیت کا ذکر صرف تعریفی شکل میں ہی کیا جاسکے گا‘۔

اس فیصلے کی سنگینی یہ ہے کہ صیہونیت مذہبی نہیں بلکہ مکمل طور پر سیاسی اصطلاح ہے۔ یہی وجہ ہے صیہونی یہودیوں اور عیسائیوں دونوں میں پائے جاتے ہیں۔ یوں ٹک ٹاک وہ پہلا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بن گیا ہے جس نے ہیٹ اسپیچ کو مذہب یا مذہبی گروہ سے خالص سیاست تک توسیع دیدی ہے۔ اسی دوران فیس بک نے بھی بغیر کسی اعلان کے ویوز پر کیپ لگا دی ہے۔ یہ کیپ 8999999 کے عدد پر لگی ہے۔ اس کا تجربہ ہمیں ذاتی طور پر ہی ہوا۔ ہماری پروفائل کے ویوز مذکورہ عدد کے بعد تیزی سے گرنے شروع ہوئے۔ ہماری نئی پوسٹوں کے ویوز پر بغیر کسی سٹرائیک یا وارنگ کے ہی 2 تہائی کٹ لگ گیا۔ ہم نے اسے کوئی ایرر سمجھ کر 3 بار رپورٹ کیا مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ یوں ہم پہلے سے موجود اپنے فیس بک پیج کی جانب شفٹ ہوگئے۔ اس کے ٹوٹل ویوز 25 دسمبر 2025 کو ڈھائی لاکھ کے آس پاس تھے۔ اس پر سرگرمی شروع کی تو ایک ماہ میں وہ بھی 89 لاکھ ویوز تک پہنچ گیا۔ اور اسے بھی ریورس گیئر لگ گیا۔ اب ہم پیج پر بھی 2 تہائی کٹ کا سامنا کر رہے ہیں۔

اگر آپ ٹوئٹر کا حال دیکھیں تو ایلون مسک نے اسے یہی کہہ کر خریدا تھا کہ وہ اسے فری اسپیچ کا پلیٹ فارم بنائیں گے۔ مگر ساتھ ہی گویا یہ پالیسی بھی لے آئے کہ فری اسپیچ فری نہیں ملے گی۔ یہ بیش قیمت نعمت اسی کو ملے گی جو بلیو ٹک خرید کر فری اسپیچ کرے گا۔ اس کے بغیر کی جانے والی فری اسپیچ کو ریچ نہیں ملے گی۔ جبکہ حال ہی میں صیہونیوں کو خجالت سے بچانے کے لیے ٹوئٹر نے حیبرو زبان کی ٹرانسلیشن کی سہولت ختم کرکے بھی واضح کردیا کہ ایلون مسک فری اسپیچ کے کتنے قائل ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کی اخلاقی جڑیں

اگر غور کریں تو زیر نظر سطور میں ہم نے صرف امریکا سے جڑے سوشل میڈیا امور پر بات کی ہے۔ کیونکہ سوشل میڈیا کے بیشتر پلیٹ فارمز امریکا کے ہی ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا پالیسی کے لحاظ سے سب سے بدتر صورتحال یورپ کی ہے۔ جہاں صرف برطانیہ ہی ایک سال میں 12 ہزار افراد کو فری اسپیچ پر گرفتار کرچکا ہے۔ اس صورتحال نے برطانیہ میں خوف کی ایسی فضاء پیدا کردی ہے کہ اب وہاں کا مقیم ملحد بھی ہماری پوسٹوں پر ’جزاک اللہ‘ کے علاوہ کوئی کمنٹ کرنے کا رسک نہیں لیتا۔ ایسے میں یہ سوال بہت اہم ہوجاتا ہے کہ کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟ ہم اب اس کی آخری رسومات والے مرحلے میں ہیں؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کے طبی معائنے پر حکومت کو اہلخانہ کو بروقت آگاہ کرنا چاہیے تھا لیکن یوٹیوبرز کا پروپیگنڈا بھی درست نہیں، عمار مسعود

انڈیا میں نیپا وائرس کا پھیلاؤ: چین اور جنوبی ایشیا کی فضائی نگرانی سخت

سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کی بڑی کامیابی، ثالثی عدالت نے بھارت پر قانونی دباؤ بڑھا دیا

انتظامیہ کی فراہم کردہ معلومات ہی آگے شیئر کیں، ذاتی طور پر شرمندہ اور معافی کی طلبگار ہوں، عظمیٰ بخاری

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان فضائی رابطے بحال، بیمان ایئرلائن کی پرواز کراچی ائیرپورٹ پر لینڈ کرگئی

ویڈیو

لاہور مین ہول حادثہ، عظمیٰ بخاری کی فیک نیوز بے نقاب، فوج اور پی ٹی آئی میں تمام راستے بند

سنی پاجی ریٹرنز، سرحد نہیں اسکرین ہل گئی

بھاٹی گیٹ حادثہ: جاں بحق خاتون کے بھائی اور بچی کے ماموں کا غلط خبر پھیلانے والے اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا اعلان

کالم / تجزیہ

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی

نظر نہ آنے والے ہتھیاروں سے کیسے بچاؤ کیا جائے؟