جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سینیئر رہنما حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ میری 4 بیٹیوں کی شادی 18 سال سے کم عمر میں ہوئی، ہم قرآن و سنت کے خلاف کسی قانون کو نہیں مانتے۔
’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ قرآن و سنت کے مطابق لڑکے یا لڑکی کے لیے شادی کی شرط بلوغت ہے، اس میں عمر کی کوئی قید نہیں رکھی گئی۔
میری چار بیٹیاں ہیں جن کی شادیاں 18 سال سے کم عمر میں ہوئیں,حافظ حمداللہ (رپورٹر: لقمان شاہ) pic.twitter.com/ojMlk8Hs69
— WE News (@WENewsPk) January 28, 2026
انہوں نے کہاکہ قرآن و سنت نے جو اصول وضع کیے ہیں ان میں کیسے ترمیم کی جا سکتی ہے، اس لیے ہم اس قانون کی مخالفت کریں گے اور ببانگ دہل کریں گے۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی شادی پر پابندی سے متعلق بل پاس ہونے پر حافظ حمداللہ نے کہا تھا کہ اگر مجھے غصہ آگیا تو 16 سال کی لڑکی سے شادی کروں گا۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ وہ چاروں صوبوں میں نوجوانوں کی اجتماعی شادیوں کا اہتمام کریں جن کی عمریں 18 سال سے کم ہوں۔
حافظ حمداللہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کے خلاف کسی قانون کو نہیں مانتے، اسے پاؤں تلے روندیں گے۔
16 سال کی لڑکی سے شادی سے متعلق بیان پر حافظ حمداللہ تنقید کی زد میں آگئے ہیں، جس کی وضاحت میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کی اپنی بیٹیوں کی شادیاں بھی 18 سال سے کم عمر میں ہوئی ہیں۔














