امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر مذاکرات کے لیے دوبارہ خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پاس وقت ختم ہو رہا ہے اور اگر وہ مذاکرات کی میز پر نہیں آیا تو اسے شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب ایک بڑا بحری بیڑا روانہ ہو رہا ہے، جو اسٹریٹیجک طور پر تیار ہے اور اگر ضروری ہوا تو سخت کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران جلد مذاکرات پر آمادہ ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:’امریکا ایران کی طاقت کو سمجھنے میں ناکام‘
بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے کہا کہ ایک عظیم بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ بہت زیادہ طاقت، جوش اور مقصد کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جس کی قیادت ایئر کرافٹ کیریئر ابراہیم لنکن کر رہا ہے، وہ بیڑا وینزویلا کی طرف بھیجے گئے بیڑے سے بڑا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ بیڑا ضرورت پڑنے پر تیز اور بھرپور انداز میں اپنا مشن مکمل کرنے کے قابل ہے اور ایران کو ایک منصفانہ، مساوی اور جوہری ہتھیاروں سے پاک معاہدہ کے لیے مذاکرات کی میز پر آنے کی امید دی ہے۔
BREAKING: 🚨🇺🇸 USS Abraham Lincoln has gone dark, with no transponder or communication, signaling possible preparation for action against Iran. pic.twitter.com/SX0O7GIBUJ
— Globe Observer (@_GlobeObserver) January 29, 2026
انہوں نے خبردار کیا کہ وقت ختم ہو رہا ہے، جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایران سے کہا تھا، معاہدہ کرو! اگر نہیں تو آپریشن مڈنائٹ ہیمر جیسا عمل انجام دیا گیا، اور اگلا حملہ شاید اس سے بھی زیادہ شدید ہوگا۔
گزشتہ ہفتے بھی ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ احتجاجوں پر سخت ردعمل دینے کی صورت میں امریکا کارروائی کر سکتا ہے، تاہم بدھ کے بیان میں احتجاج کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ زور جوہری معاہدے اور فوجی دباؤ پر رہا۔
ایران نے ٹرمپ کے بیانات کا سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے افغانستان اور عراق میں جنگوں میں کھربوں ڈالر ضائع کیے اور ہزاروں جانیں گنوا دی ہیں، لیکن ایران باوقار مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مظاہروں کے دوران امریکا ایران کیخلاف فوجی اقدامات پر غور کررہا ہے، سی این این کا دعویٰ
تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ دھمکیوں کے تحت مذاکرات نہیں کریں گے، بلکہ بغیر کسی شرط کے حقیقی مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں۔
علاقے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، جس کے باعث نہ صرف خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں بلکہ عالمی رہنما بھی اس صورتحال کو کم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر پریشر بڑھایا گیا تو وہ خود کو بھرپور طریقے سے دفاعی طور پر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔













