جوہری پروگرام پر معاہدے نہ ہونے پر ’عظیم بحری بیڑا‘ بھیجا جا رہا ہے،  ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

جمعرات 29 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر مذاکرات کے لیے دوبارہ خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پاس وقت ختم ہو رہا ہے اور اگر وہ مذاکرات کی میز پر نہیں آیا تو اسے شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب ایک بڑا بحری بیڑا روانہ ہو رہا ہے، جو اسٹریٹیجک طور پر تیار ہے اور اگر ضروری ہوا تو سخت کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران جلد مذاکرات پر آمادہ ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:’امریکا ایران کی طاقت کو سمجھنے میں ناکام‘

بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے کہا کہ ایک عظیم بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ بہت زیادہ طاقت، جوش اور مقصد کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جس کی قیادت ایئر کرافٹ کیریئر ابراہیم لنکن کر رہا ہے، وہ بیڑا وینزویلا کی طرف بھیجے گئے بیڑے سے بڑا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ بیڑا ضرورت پڑنے پر تیز اور بھرپور انداز میں اپنا مشن مکمل کرنے کے قابل ہے اور ایران کو ایک منصفانہ، مساوی اور جوہری ہتھیاروں سے پاک معاہدہ کے لیے مذاکرات کی میز پر آنے کی امید دی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ وقت ختم ہو رہا ہے، جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایران سے کہا تھا، معاہدہ کرو! اگر نہیں تو آپریشن مڈنائٹ ہیمر جیسا عمل انجام دیا گیا، اور اگلا حملہ شاید اس سے بھی زیادہ شدید ہوگا۔

گزشتہ ہفتے بھی ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ احتجاجوں پر سخت ردعمل دینے کی صورت میں امریکا کارروائی کر سکتا ہے، تاہم بدھ کے بیان میں احتجاج کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ زور جوہری معاہدے اور فوجی دباؤ پر رہا۔

ایران نے ٹرمپ کے بیانات کا سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے افغانستان اور عراق میں جنگوں میں کھربوں ڈالر ضائع کیے اور ہزاروں جانیں گنوا دی ہیں، لیکن ایران باوقار مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مظاہروں کے دوران امریکا ایران کیخلاف فوجی اقدامات پر غور کررہا ہے، سی این این کا دعویٰ

تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ دھمکیوں کے تحت مذاکرات نہیں کریں گے، بلکہ بغیر کسی شرط کے حقیقی مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں۔

علاقے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، جس کے باعث نہ صرف خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں بلکہ عالمی رہنما بھی اس صورتحال کو کم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر پریشر بڑھایا گیا تو وہ خود کو بھرپور طریقے سے دفاعی طور پر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا ایران جنگ بندی سے اسرائیل ناخوش، امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازشیں

جنگ بندی کی خلاف ورزی، لبنان کا پاکستان سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

وفاقی کابینہ اجلاس: اراکین کا امریکا ایران جنگ بندی پر وزیراعظم، وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین

’پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد‘: محمود اچکزئی کا حکومت کی غیرمشروط حمایت کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف کا مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟