’کاش یہ 70 کی دہائی کا کراچی ہوتا، جب بندر روڈ پر آگ بجھانے کے لیے پانی کی لائن ہوا کرتی تھی‘

جمعرات 29 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی حالیہ آگ نے جہاں جانی اور اربوں روپے کا مالی نقصان کیا، وہیں اس کے گرد کئی سوالات اور تنازعات نے بھی جنم لیا ہے۔ عوامی حلقوں اور متاثرہ تاجروں کی جانب سے یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ منصوبہ بندی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ بغیر تحقیق کے یہ اندازہ لگا لیا جائے کہ یہ آگ شارٹ سرکٹ سے لگی یا پھر کسی کیمیکل کے ذریعے لگائی گئی؟

آگ لگنے کی وجوہات اور تحقیقات

یہ جاننے کے لیے کہ آگ لگنے یا لگانے کا تعین کیسے کیا جا سکتا ہے، ہم نے ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے ماہر فواد شیروانی سے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی آتشزدگی کے واقعے کے بعد اگر یہ الزام لگایا جائے کہ آگ خود نہیں لگی بلکہ لگائی گئی ہے تو اس الزام کے ثبوت بھی دینا ضروری ہوتے ہیں۔ اگر الزام لگانے والا ثبوت فراہم نہیں کرتا تو ترقی یافتہ اور مہذب معاشروں کی طرح جائے وقوعہ کا باقاعدہ معائنہ کرایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سانحہ گل پلازہ: کمشنر کراچی کی حتمی رپورٹ مکمل، 79 اموات کی تصدیق

کیمیکل اور الیکٹریکل فائر کا فرق

فواد شیروانی کے مطابق اگر آگ الیکٹریکل ہو تو اس کے بعد کیمیکل ایگزامینیشن کرائی جاتی ہے، جس کے ماہرین اور لیبارٹریاں لاہور اور کراچی میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق کے ایم سی اس حوالے سے تکنیکی طور پر خاصی مضبوط ہے، اس کے علاوہ بھی کئی معتبر ماہرین موجود ہیں جنہیں حکومت بخوبی جانتی ہے۔ کیمیکل ایگزامینیشن کے بعد ہی یہ طے ہو سکتا ہے کہ آگ الیکٹریکل تھی یا کسی کیمیکل کے ذریعے لگائی گئی۔

عمارت کے گرنے پر شکوک

فواد شیروانی کا کہنا ہے کہ جس انداز سے عمارت گری ہے، اگر اسے صرف الیکٹریکل فائر قرار دیا جائے تو یہ بات کچھ مشکل نظر آتی ہے۔ تاہم اگر فاسفورس یا کسی اور کیمیکل کا استعمال ہوا ہے تو کیمیکل ایگزامینیشن کرا کے رپورٹ عوام کے سامنے لائی جانی چاہیے۔

ماضی میں فائر سیفٹی کے انتظامات

فواد شیروانی کے مطابق پورے ایم اے جناح روڈ پر فائر سیفٹی کے لیے خصوصی والز موجود تھے۔ جب عبدالستار افغانی میئر تھے تو اس دور میں پورے بندر روڈ پر واٹر بورڈ کی جانب سے پانی کی لائن بچھائی گئی تھی۔ لال رنگ کے ڈبے نصب کیے گئے تھے جہاں پانی کی لائن کے کنکشن موجود ہوتے تھے۔ چونکہ یہ پورا علاقہ تجارتی تھا، اس لیے کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فائر بریگیڈ کو فوری پانی فراہم کیا جا سکتا تھا۔ یہ ایسی لائن تھی جس میں 24 گھنٹے پانی موجود رہتا تھا اور واٹر بورڈ اس کی دیکھ بھال کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:سانحہ گل پلازہ: ایم کیو ایم کا وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اطلاعات اور میئر کراچی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

تاجروں کا ردعمل اور شکوے

حال ہی میں ہونے والے سانحہ گل پلازہ پر تاجر رہنماؤں اور دکانداروں نے پہلے دن سے ہی شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ ان کا شکوہ ہے کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ادارے بروقت کارروائی کرنے میں ناکام رہے۔ آگ بجھانے والے عملے کے پاس پانی کی کمی تھی اور وہ مناسب آلات سے لیس نہیں تھے۔

میئر کراچی اور دیگر حکام واقعے کے 22 سے 23 گھنٹے بعد موقع پر پہنچے، جس پر تاجروں نے شدید نعرے بازی بھی کی۔ اس سانحے کے بعد مسلسل کوریج کے دوران وہاں موجود اکثر تاجروں نے وی نیوز کو بتایا کہ اگر ریسکیو حکام انہیں نہ روکتے تو وہ خود بہتر انداز میں کام کر کے شاید قیمتی جانیں بچا لیتے۔

فائر برگیڈ کی رائے

محکمہ فائر برگیڈ کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جس نوعیت کی یہ آگ تھی اور گل پلازہ کی کچھ دکانوں کے شٹرز پر نظر آنے والا زنگ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فوری کیمیکل ایگزامینیشن کرائی جائے تاکہ یہ تعین ہو سکے کہ آگ کیسے لگی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے آگ لگنے کے لاتعداد واقعات دیکھے ہیں، اور بجلی سے لگنے والی آگ اور کیمیکل سے لگنے والی آگ میں یہ فرق ہوتا ہے کہ کیمیکل کی آگ لوہے پر زنگ یا مخصوص رنگ چھوڑ دیتی ہے۔ اصل وجہ کیمیکل ایگزامینیشن کے بعد ہی سامنے آ سکتی ہے۔

آگ کے تیزی سے پھیلنے پر سوال

گل پلازہ ریسکیو آپریشن میں مصروف کچھ حکام کا کہنا ہے کہ ممکن ہے آگ اے سی چیمبر سے اتنی تیزی سے پھیلی ہو، کیونکہ چند منٹوں میں ہی آگ چاروں طرف پھیل گئی جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ عام طور پر آگ اتنی تیزی سے نہیں پھیلتی، اور اگر سامان کی وجہ سے پھیل بھی جائے تو ایک منزل سے دوسری منزل تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے، لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس تھا۔

عینی شاہد کا بیان

دبئی کراکری کے مالک کے بھائی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ان کا رات 10 بج کر 35 منٹ پر اپنے بھتیجے سے رابطہ ہوا، جس نے بتایا کہ گل پلازہ میں آگ لگ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں سے نکل آؤ، مگر اس نے بتایا کہ نکلنا ممکن نہیں کیونکہ آگ بہت شدید ہے، البتہ ہماری دکان میں تھوڑی ہوا آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ آتشزدگی، سرکار کی مدعیت میں درج مقدمہ کی تفصیلات سامنے آگئیں

آگ پھیلنے کی ٹائم لائن

عبدالرحمان کے مطابق اس دکان میں ان کے بھتیجے سمیت دیگر دکاندار اور کچھ گاہک پناہ لینے کے لیے داخل ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ رات 10 بج کر 20 منٹ پر آگ نمبر ایک دکان میں لگی اور پانچ منٹ بعد 140 نمبر دکان تک پہنچ گئی۔ آدھے گھنٹے کے اندر یہ آگ پوری عمارت میں پھیل چکی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز دبئی کراکری سے انسانی اعضا ہم نے خود نکال کر ریسکیو حکام کے حوالے کیے۔

لاشوں اور باقیات کی صورتحال

گل پلازہ سے اب تک 60 کے قریب لاشیں نکالنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ کراچی پولیس کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ دبئی کراکری سے 25 سے 30 افراد کی ہڈیاں ملی ہیں۔

اس حوالے سے انسانی اعضا کا معائنہ کرنے والی ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا ہے کہ گل پلازہ سے ملنے والی باقیات اس حد تک جل چکی ہیں کہ ڈی این اے کا حصول تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق آگ کی شدید تپش اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کے باعث ہڈیوں کے اندر موجود ’میڈولری کینال‘ سے ڈی این اے ختم ہو چکا ہے۔

ابتدائی طور پر 6 افراد کی شناخت چہرے سے جبکہ ایک کی شناخت شناختی کارڈ کے ذریعے کی گئی، تاہم دیگر کی شناخت میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ اب تک 30 سے زائد باقیات موصول ہو چکی ہیں اور مزید آنے والے اعضا کا معائنہ جاری ہے۔ بعض صورتوں میں صرف جنس، یعنی مرد یا خاتون، کا اندازہ لگانا ہی ممکن ہو سکا ہے۔

آئندہ اقدامات اور حکومتی مؤقف

ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مزمل حسین ہالیپوٹو کا کہنا ہے کہ فائر سیفٹی اور ایمرجنسی تیاری کے حوالے سے شہر بھر میں معائنوں کا عمل جاری رہے گا۔ مقررہ وقت میں فائر فائٹنگ آلات اور سیفٹی اقدامات مکمل نہ کرنے پر عمارتوں کو سیل کیا جائے گا۔ کے ایم سی کے سروے میں شامل 266 عمارتوں سمیت دیگر اہم عمارتوں کو فائر سیفٹی نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ سندھ نے کورنگی کازوے پل کا افتتاح کردیا، گل پلازہ کے متاثرین کے لیے امدادی اقدامات کا اعلان

جنوری 2024 میں بھی کے ایم سی کی جانب سے فائر سیفٹی یقینی بنانے کے لیے بلڈرز، بلڈنگ اونرز اور یونینز کو ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ فائر سیفٹی کو یقینی بنانا بلڈرز، بلڈنگ اونرز اور یونینز کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ ایس بی سی اے بطور ریگولیٹری اتھارٹی کے ایم سی اور سول ڈیفنس کے ساتھ مل کر فائر سیفٹی کو یقینی بنا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان میں اصلاحات کی تعریف، معیشت کی بحالی پر آئی ایم ایف کا اظہار اطمینان

ویڈیو: ڈولفن اسکواڈ اہلکاروں کا اسلام آباد میں میاں بیوی پر تشدد، ملوث اہلکار معطل

پی ایچ ایف انتظامیہ کی نااہلی: مصر میں شیڈول ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ بھی داؤ پر لگ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے بعد کاروباری ہفتے کا مثبت اختتام، 990 پوائنٹس کا اضافہ

ٹی20 ورلڈ کپ: نیوزی لینڈ کے خلاف کامیابی کس طرح سیمی فائنل کی راہ ہموار کرسکتی ہے؟

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

ٹی20 ورلڈ کپ: نیوزی لینڈ کے خلاف کامیابی کس طرح سیمی فائنل کی راہ ہموار کرسکتی ہے؟

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟