وزارت خزانہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی مالیاتی پالیسی اسٹیٹمنٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران ہر پاکستانی پر قرضے کا بوجھ 13 فیصد بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار روپے ہو گیا ہے۔
دوسری جانب بجٹ خسارہ قانونی حد سے 3 کھرب روپے زیادہ ہونے کے باعث عوامی قرضہ بدستور ایک بڑا چیلنج بنا رہا۔
وزارتِ خزانہ کی سالانہ مالیاتی پالیسی اسٹیٹمنٹ کے مطابق مالی سال 24-2023 میں فی کس قرضہ 2 لاکھ 94 ہزار 98 روپے تھا، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان جنوری میں اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کرے گا، وزارت خزانہ کا اعلان
مالی ذمہ داری اور قرضوں کی حد بندی کے قانون کے تحت وزارتِ خزانہ پر لازم ہے کہ وہ ہر سال جنوری کے اختتام تک یہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرے۔
رپورٹ کے مطابق ملک کی 24 کروڑ 15 لاکھ آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی عوامی قرضے کو تقسیم کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سال کے دوران فی کس قرضے میں 39 ہزار روپے، یعنی 13 فیصد اضافہ ہوا۔
جون 2024 سے جون 2025 کے درمیان مجموعی عوامی قرضہ 71.2 کھرب روپے سے بڑھ کر 80.5 کھرب روپے ہو گیا، جس کی بنیادی وجہ سودی ادائیگیوں میں اضافہ بتایا گیا ہے۔
Every Pakistani now owes Rs333,000 debt!
The debt burden of every Pakistani increased by 13% to Rs333,000 in the last fiscal year, while public debt remained a "challenge" due to a budget deficit that exceeded the statutory limit by Rs3 trillion, according to a Fiscal Policy…
— Shahbaz Rana (@81ShahbazRana) January 29, 2026
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سودی اخراجات قانونی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے اضافی قرضے لینے کا نتیجہ ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا کے برعکس، جہاں قرضوں کی حد کی خلاف ورزی پرحکومت عملی طور پرمفلوج ہو سکتی ہے، پاکستان میں ایسی خلاف ورزیوں پر صرف پارلیمنٹ کو آگاہ کیا جاتا ہے، وفاقی حکومت کو کسی قسم کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
مالی سال 25-2024 وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں قائم حکومت کا پہلا مکمل مالی سال تھا، جنہوں نے اپریل 2024 میں اقتدار سنبھالا۔
مزید پڑھیں: کیا پاکستان کے مسائل کا واحد حل ٹیکنوکریٹس ہیں، ماضی میں ٹیکنوکریسی کیوں ناکام رہی؟
وزارتِ خزانہ کے مطابق مجموعی عوامی قرضہ جی ڈی پی کے تناسب سے جون 2024 میں 67.6 فیصد تھا، جو جون 2025 میں بڑھ کر 70.7 فیصد ہو گیا۔
عوامی قرضے میں اس اضافے نے وفاقی حکومت کے مالی نظم و ضبط کے دعوؤں کو کمزورکردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے کفایت شعاری کے دعوؤں کے باوجود نئے محکمے قائم کیے، وفاقی کابینہ میں توسیع کی اور نئی گاڑیاں اور فرنیچر خریدا۔
مزید پڑھیں: سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات
قانون کے مطابق وفاقی حکومت کو ہرسال جنوری کے اختتام تک قومی اسمبلی میں مالیاتی پالیسی اسٹیٹمنٹ پیش کرنا ہوتی ہے، جس میں اخراجات، آمدن، مالی خسارہ، عوامی قرضہ اور فی کس قرضے سمیت تمام اہم مالی اشاریوں کا جائزہ شامل ہونا ضروری ہے۔
وزارتِ خزانہ نے رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ’عوامی قرضے کی صورتحال ایک بڑا چیلنج رہی‘ جس کی وجہ سودی ادائیگیوں اور شرحِ تبادلہ میں تبدیلیاں تھیں۔
مالی سال 25-2024 کے لیے مجموعی وفاقی اخراجات 18.9 کھرب روپے مقرر کیے گئے تھے، جن میں 17.2 کھرب روپے جاری اخراجات شامل تھے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں نئے کرنسی نوٹ کیسے ہوں گے، عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟
رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے پارلیمنٹ کی مقرر کردہ 3.5 فیصد کی حد سے تجاوز کرتے ہوئے 3.1 کھرب روپے، یعنی جی ڈی پی کا 2.7 فیصد اضافی خرچ کیا۔
وفاقی مالی خسارہ 6.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا، حالانکہ قانون کے تحت اسے 3.5 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
صوبائی سرپلس، اسٹیٹ بینک کے منافع اور پیٹرولیم لیوی کی بدولت مجموعی مالی توازن بجٹ اندازوں سے بہتر رہا، مجموعی مالی خسارہ جی ڈی پی کا 5.4 فیصد رہا، جو بجٹ میں متوقع 5.9 فیصد سے کم تھا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے بیرونی اور مقامی قرضے کہاں تک پہنچ گئے؟ اسٹیٹ بینک نے اعداد و شمار جاری کردیے
آمدنی کے حوالے سے وزارتِ خزانہ نے کہا کہ ٹیکس وصولیاں 11.7 کھرب روپے رہیں، جو 13 کھرب روپے کے ہدف کا 90.5 فیصد تھیں۔
تاہم نان ٹیکس آمدن 5.1 کھرب روپے رہی، جو ہدف سے 4 فیصد زیادہ تھی، جس کی بڑی وجہ اسٹیٹ بینک کے زیادہ منافع اور پیٹرولیم لیوی کی وصولی رہی۔
دفاعی اخراجات 2.1 کھرب روپے مقرر کیے گئے تھے، مگر اصل اخراجات تقریباً 2.2 کھرب روپے رہے، جو بجٹ سے 3 فیصد زیادہ ہیں۔














