لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی 24 سالہ خاتون کی لاش تقریباً 3 کلومیٹر دور آؤٹ فال روڈ سے برآمد کر لی گئی ہے۔ تاہم 9 ماہ کی بچی کی تلاش تاحال جاری ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری پر بھی تنقید کی ہے کیونکہ ابتدائی طور پر وزیر اطلاعات نے ماں اور بچی کے کھلے مین ہول میں گرنے کی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا تھا اور اس واقعے کی تردید کی تھی۔
لاہور میں ماں بیٹی مین ہول میں گر گئے
ریسکیو کے مطابق بھاٹی گیٹ نزد داتا دربار مین گیٹ کے قریب مین ہول (گٹر) میں گرنے کی کال موصول ہوئی
لاہور: کالر کے مطابق ایک خاتون اپنی بیٹی کے ساتھ مین ہول (گٹر) میں گر گئ
لاہور: ریسکیو اہلکاروں کی مین ہول میں گرنے والی ماں اور بیٹی کی… pic.twitter.com/L6LGUhmlAa
— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) January 28, 2026
بعد ازاں خاتون کی لاش برآمد ہونے کے بعد عوام اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے وزیر اطلاعات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاکستان کے معروف اینکر اور صحافی اقرار الحسن نے نے کہا کہ لاہور میں سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی ماں اور اس کی بیٹی کی خبر اور اسے ابتداء میں فیک قرار دیا جانا قابلِ مذمت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس خبر پر بھی اتنا ہی واویلا اور تنقید ہوتی ہے جتنی یہ واقعہ کسی دوسرے صوبے میں ہونے پر ہوتی؟
لاہور میں سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی ماں اور اُس کی بیٹی کی خبر اور اُسے ابتداء میں فیک قرار دیا جانا قابلِ مذمت ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس خبر پر بھی اتنا ہی واویلا اور تنقید ہوتی ہے جتنی یہ واقعہ کسی دوسرے صوبے میں ہونے پر ہوتی؟
— Iqrar ul Hassan Syed (@iqrarulhassan) January 29, 2026
رضوان غلزئی نے لکھا کہ لاہور گٹر میں گرنے والی ماں اور بیٹی کی خبر کو فیک نیوز کہنے والوں پر پیکا لگے گا؟
لاہور گٹر میں گرنے والی ماں اور بیٹی کی خبر کو فیک نیوز کہنے والوں پر پیکا لگے گا؟
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) January 29, 2026
صحافی ثاقب بشیر نے لکھا کہ پنجاب حکومت کو آج احساس ہو گا کہ بعض اوقات جان بوجھ کر نہیں بلکل ناسمجھی یا مکمل تصدیق سے پہلے بھی کوئی خبر شئیر جاتی ہے ان پر تھوڑا تحمل دیکھانا چاہیے۔ اب فیک نیوز پر دوسروں کے خلاف تو مقدمے کرتے ہیں آج خود کیا کریں گے ؟
پنجاب حکومت کو آج احساس ہو گا کہ بعض اوقات جان بوجھ کر نہیں بلکل ناسمجھی یا مکمل تصدیق سے پہلے بھی کوئی خبر شئیر جاتی ہے ان پر تھوڑا تحمل دیکھانا چاہیے ۔۔ اب فیک نیوز پر دوسروں کے خلاف تو مقدمے آج خود کیا کریں گے ؟؟
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) January 29, 2026
ندیا اطہر نے لکھا کہ لاہور میں یہ کونسا مین ہول تھا جس کا ڈھکن نہیں تھا اور کیوں نہیں تھا؟ علاقے کے ذمہ داران سے جواب طلبی ہونی چاہیے۔
لاہور میں یہ کونسا مین ہول تھا جس کا ڈھکن نہیں تھا اور کیوں نہیں تھا؟
علاقے کے ذمہ داران سے جواب طلبی ہونی چاہیے۔— ندیّا اطہر (@naddiyyaathar) January 29, 2026
ایک صارف نے سوال کیا کہ ایک عورت اپنی بچی کے ساتھ کھلے مین ہول میں گر کے مر گئی اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ فیک نیوز ہے، کیا اس کا بھی دفاع کرنا ہے؟
ایک عورت اپنی بچی کے ساتھ کھلے مین ھول میں گر کے مر گئی اور لوگ کہہ رھے ھیں کہ فیک نیوز ھے۔اس کا بھی دفاع کرنا ھے؟ pic.twitter.com/qNkAbhQahY
— صحرانورد (@Aadiiroy2) January 28, 2026
مریم نواز خان نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ انسانی جانوں کا ضیاع انتظامی غفلت کی وجہ سے ہوا لیکن صرف اس لیے ماں اور بچے کا مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونا فیک نیوز قرار دینا کہ حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے تھے اور اس کی خوب تشہیر کرنا اور پھر ڈٹ بھی جانا۔ یہاں پیکا نہیں لگتا؟ کوئی جوابدہی؟ تھوڑی سا احساس؟
فیک نیوز!
انسانی جانوں کا ضیاع انتظامی غفلت کی وجہ سے ہوا لیکن صرف اس لیے ماں اور بچے کا مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونا فیک نیوز قرار دینا کہ حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے تھے اور اس کی خوب تشہیر کرنا اور پھر ڈٹ بھی جانا! یہاں پیکا نہیں لگتا؟ کوئی جوابدہی؟ تھوڑی سا احساس؟ https://t.co/ZIRdKi2a5t
— Maryam Nawaz Khan (@maryamnawazkhan) January 29, 2026
اسامہ زاہد نے کہا کہ وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے واقعہ فیک قرار دےدیا اب جبکہ خاتون کی لاش برآمد ہوچکی ہے کیا عظمی بخاری معافی مانگیں گی؟
لاہورمیں مین ہول میں گر کر ماں اور بیٹی جاں بحق ہوگئے
وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے واقعہ فیک قرار دےدیا
اب جبکہ خاتون کی لاش برآمد ہوچکی ہے کیا عظمی بخاری معافی مانگیں گی؟— Usama Zahid (@ranausamazahid) January 29, 2026
یاد رہے کہ چند ہفتے قبل پنجاب کے ضلع لودھراں میں ایک کھلے مین ہول میں گرنے کے باعث سات سالہ بچہ ریحان جاں بحق ہوا تھا، جس پر عوامی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔
اس واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نہ صرف دکھ اور غصے کا اظہار کیا تھا بلکہ ڈپٹی کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کا حکم بھی جاری کیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں زیرِ تعمیر سڑک کے ٹھیکیدار اور سب انجینئر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔














