وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ماں اور بچی کے دلخراش واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے واقعے کے ریسکیو آپریشن میں شامل تمام اداروں کے کردار کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کی ہدایت کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور، سیوریج لائن میں گرنے والی ماں اور بچی کی لاشیں برآمد، تحقیقات کا آغاز
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے کہ ایک ماں کا دکھ ایک ماں ہی پوری طرح سمجھ سکتی ہے، اور ماں اور بچی کے اس المناک واقعے نے انہیں شدید طور پر رنجیدہ کر دیا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کی غفلت اور لاپروائی کے خلاف اعلانِ جنگ کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی سطح پر کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے ماں اور بچی کے واقعے کے دوران ریسکیو آپریشن میں شامل تمام اداروں کے افسران کو جوابدہ قرار دیتے ہوئے انہیں کٹہرے میں کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ پولیس، ریسکیو 1122، واسا اور ضلعی انتظامیہ واقعے سے متعلق تمام پہلوؤں پر مشتمل غیر جانبدار فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ فوری طور پر پیش کریں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز نے بھکر کی مصروفیات کے دوران بھی ماں اور بچی کے واقعے کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ حاصل کی اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھے رکھی۔
پرندہ مارکیٹ کے قریب مین ہول میں گرنے والی ماں اور بیٹی کی لاشیں مل گئیں۔ اب اس واقعے کو فیک کال قرار دینے والی عظمی بخاری کس منہ سے وزیراعلی پنجاب کے قصیدے بیان کریں گی۔ شاید اسلئے کہتے ہیں کہ سیات بہت ظالم ہوتی ہے۔
اللہ پاک سب پر اپنا کرم رکھیں۔ امین pic.twitter.com/lABIDSVM5a— Omer Yaqoob 🇵🇰 (@Omer_Yaqoob) January 29, 2026
وزیراعلیٰ نے فیصلہ کیا کہ بھکر سے واپسی پر گھر جانے کے بجائے ایئرپورٹ پر ہی ان کی زیر صدارت ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں واقعے سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی روشنی میں فوری اور سخت ترین کارروائیوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریسکیو آپریشن کے دوران متضاد اور غیر مستند معلومات فراہم کرنے والے تمام افسران اور اداروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسانی جانوں سے متعلق معاملات میں کسی قسم کی غفلت ناقابلِ قبول ہے اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔














