بھاٹی چوک حادثہ: داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم معطل

جمعرات 29 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور کے علاقے بھاٹی چوک میں ماں اور بچی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے پر ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے نے سخت کارروائی کرتے ہوئے داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم کو معطل کر دیا ہے۔

معطل کیے جانے والے افسران میں پراجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سب انجینئر شامل ہیں، جبکہ منصوبے کے کنٹریکٹر کے خلاف فوری مقدمہ درج کرانے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔

واقعے پر غفلت کے الزامات کے تحت کنٹریکٹر، متعلقہ نجی کمپنی اور ریزیڈنٹ انجینئر نیسپاک کو بھی شو کاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے لاہور، سیوریج لائن میں گرنے والی ماں اور بچی کی لاشیں برآمد، تحقیقات کا آغاز

انتظامیہ کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف مزید قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

یاد رہے کہ ماں بیٹی کے سیوریج مین ہول میں گرنے کا افسوسناک واقعہ بھاٹی گیٹ کے قریب داتا دربار کے سامنے گزشتہ رات پیش آیا، جہاں ترقیاتی کام جاری تھا اور سیوریج مین ہول کھلا ہوا تھا۔

متاثرہ خاتون اپنی کمسن بیٹی کے ساتھ دربار پر حاضری کے بعد رکشے سے اتر رہی تھیں کہ اچانک پاؤں پھسلنے کے باعث دونوں کھلے مین ہول میں جا گریں۔

اہلِ خانہ کے مطابق مین ہول تقریباً 20 سے 25 فٹ گہرا تھا اور اس پر کوئی ڈھکن موجود نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیے ماں اور بچی کے سانحے پر وزیراعلیٰ مریم نواز شدید رنجیدہ، غفلت کے مرتکب کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان

وی نیوز سے خصوصی انٹرویو میں خاتون کے بھائی اور بچی کے ماموں نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد 1122 کو اطلاع دی گئی، تاہم ریسکیو ٹیم مقررہ وقت سے تاخیر سے پہنچی۔ بعد ازاں سرچ آپریشن شروع کیا گیا، جبکہ واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (WASA) کے اہلکار بھی موقع پر پہنچے۔

اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ واسا اور دیگر متعلقہ اداروں نے واقعے کے فوراً بعد یہ مؤقف اختیار کر لیا کہ یہاں کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آیا، اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ مین ہول اتنا تنگ ہے کہ کوئی اس میں گر ہی نہیں سکتا۔

یہ بھی پڑھیے بھاٹی گیٹ حادثہ: جاں بحق خاتون کے بھائی اور بچی کے ماموں کا غلط خبر پھیلانے والے اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا اعلان

متاثرہ خاندان کے مطابق یہ بیانیہ سراسر جھوٹ پر مبنی تھا اور صرف ادارہ جاتی غفلت چھپانے کے لیے پھیلایا گیا۔

متاثرہ خاندان نے مزید الزام عائد کیا کہ ’فیک نیوز‘ کے دعوے کی بنیاد پر پولیس نے خاتون کے شوہر اور رکشہ ڈرائیور، جو کہ خاندان کا ہی فرد تھا، کو حراست میں لے کر تفتیش کی۔ اہلِ خانہ کے مطابق انہیں شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ وہ خود ایک بڑے سانحے سے گزر رہے تھے۔

اہلِ خانہ نے بتایا کہ بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز (DIG Operations Lahore) کی سطح پر معاملے کا نوٹس لیا گیا، جس کے بعد متاثرہ خاندان سے رابطہ بحال ہوا اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عالمی منظر نامے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت، لندن میں اہم مکالمہ

خضدار میں 4.3 شدت کا زلزلہ، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے

ایران امریکا کشیدگی: پاکستان کا مکالمے اور سفارت کاری پر زور، وزیراعظم کا صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ

ویرات کوہلی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ اچانک غائب، مداح حیران

لاہور میں اس وقت کتنے ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں؟

ویڈیو

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

خیبر پختونخوا میں آج بھی جنرل فیض کی ٹیم بیوروکریسی کے اہم عہدوں پر اور صوبے کی کرتا دھرتا ہے، اختیار ولی خان

کالم / تجزیہ

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی