لاہور کے بھاٹی گیٹ کے علاقے میں ماں اور بیٹی کے سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے پر پولیس نے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ پولیس نے متوفیہ کے والد ساجد حسین کے بیان پر 3 نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری، متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات
پولیس کے مطابق مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 322 کے تحت درج کیا گیا ہے، جس میں پراجیکٹ مینجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج دانیال اور سائٹ انچارج احمد نواز کو نامزد کیا گیا ہے۔
بھاٹی گیٹ مین ہول میں ماں بیٹی کے گرنے کا معاملہ
خاتون سے گرنے سے قبل سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی
خاتون بچی کے ہمہراہ داتا دربار سے نکل رہی ہے@KulAalam @HussainAhmedCh8 @awaisReporter #Lahore pic.twitter.com/Xyz82Rfy1s— Media Talk (@mediatalk922) January 29, 2026
مقدمے کے متن کے مطابق مدعی نے بیان دیا کہ اس کے داماد نے فون کرکے اطلاع دی کہ سعدیہ اور اس کی کمسن بیٹی سیوریج لائن میں گر گئی ہیں۔ مدعی کا الزام ہے کہ ملزمان نے مین ہول کو کھلا چھوڑ کر شدید غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا، جو قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا۔

مزید پڑھیں: لاہور مین ہول حادثہ، عظمیٰ بخاری کی فیک نیوز بے نقاب، فوج اور پی ٹی آئی میں تمام راستے بند
دوسری جانب واقعے سے قبل کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرِ عام پر آ گئی ہے، جس میں خاتون اپنی بچی کے ہمراہ داتا دربار سے نکلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ فوٹیج سامنے آنے کے بعد واقعے کی سنگینی مزید واضح ہو گئی ہے، جبکہ شہریوں نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔













