چین نے 11 افراد کو پھانسی دے دی جو میانمار میں سرگرم مجرمانہ گروہوں اور ٹیلی کام فراڈ آپریشنز سے منسلک تھے۔
یہ بھی پڑھیں: شنگھائی ایئرپورٹ پر بھارتی خاتون کو زیر حراست رکھے جانے پر انڈیا کا چین سے شدید احتجاج
چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق ان 11 افراد کو چین کے مشرقی صوبہ ژیجیانگ کے شہر وینژو کی عدالت نے ستمبر میں قتل، غیر قانونی حراست، فراڈ اور جوئے کے اڈوں کے قیام کے الزامات میں موت کی سزا سنائی تھی۔
ان میں منگ فیملی کرمنل گروپ کے ارکان بھی شامل تھے جنہوں نے میانمار میں کئی آپریشنل مراکز قائم کر کے ٹیلی کام فراڈ اور غیر قانونی جوئے کے اڈے چلائے۔
سپریم پیپلز کورٹ نے اپیل کی سماعت کے بعد تصدیق کی کہ ان فراڈ اور جوئے کے آپریشنز میں شامل رقم 10 ارب یوآن (تقریباً 1.4 ارب ڈالر) سے زائد تھی۔
ان گروہوں نے ارادی قتل، حملے اور غیر قانونی حراست کے ذریعے 14 چینی شہریوں کو ہلاک کیا اور دیگر افراد کو زخمی کیا۔
جنوب مشرقی ایشیا میں فراڈ کمپاؤنڈز
فراڈ کمپاؤنڈز تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور میانمار میں فروغ پا چکے ہیں خاص طور پر میانمار کے سرحدی علاقوں میں جہاں قانون کی عملداری کمزور ہے۔
مزید پڑھیے: چینی نژاد آسٹریلوی مصنف ڈاکٹر یانگ کو سزائے موت کیوں؟
یہ مراکز بشمول چینی شہریوں اکثر غیر ملکیوں کے ذریعے چلائے جاتے ہیں جن میں سے کچھ کا دعویٰ ہے کہ انہیں زبردستی یا انسانی اسمگلنگ کے ذریعے کام پر لگایا گیا۔
چین کی کارروائی اور تعاون
حالیہ برسوں میں بیجنگ نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ مل کر ان فراڈ مراکز پر کریک ڈاؤن شروع کیا۔ سنہ 2025 میں میانمار کے شہر میاؤادی سے 7,600 سے زائد مشتبہ چینی شہریوں کو ملک واپس بھیجا گیا جو ٹیلی کام فراڈ اور آن لائن جوئے میں ملوث تھے۔
مزید پڑھیں: چین کے سابق وزیر زراعت کو رشوت لینے پر سزائے موت سنا دی گئی
اس ماہ چینی کاروباری شخصیت چن ژی کو کمبوڈیا سے چین منتقل کیا گیا جس پر امریکا نے الزام لگایا کہ وہ پرنس ہولڈنگ گروپ چلا رہے تھے جو ایشیا کی سب سے بڑی ٹرانس نیشنل کرمنل تنظیموں میں سے ایک کے لیے فرنٹ تھا۔
عالمی خدشات
اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم نے اپریل میں خبردار کیا کہ سائبر اسکیم انڈسٹری عالمی سطح پر بڑھ رہی ہے اور دنیا بھر میں سینکڑوں ہزار افراد ان مراکز میں کام کر رہے ہیں۔














