وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور کے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے مین ہول سانحے کو قتل کے مترادف قرار دیتے ہوئے غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
وزیراعلیٰ کی زیرصدارت ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں واقعے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس کے بعد پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت 5 افسران کی گرفتاری اور 2 افسران کو ملازمت سے برطرف کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
مزید پڑھیں: ماں اور بچی کے سانحے پر وزیراعلیٰ مریم نواز شدید رنجیدہ، غفلت کے مرتکب کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایل ڈی اے، نیسپاک اور کنٹریکٹر تینوں نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔
لاہور واقعہ کے ذمہ داروں کو گرفتار کر لیا گیا، پنجاب میں نااہلی کی کوئی جگہ نہیں، ہر کوئی جواب دہ ہے pic.twitter.com/8yHdhC7YUz
— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) January 29, 2026
مریم نواز نے واضح کیا کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں تعمیراتی کام شہریوں کی سہولت اور شہر کی خوبصورتی کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ انسانی جانوں کے ضیاع کے لیے۔ انہوں نے کمشنر لاہور کو بھی اس واقعے کا اتنا ہی ذمہ دار قرار دیا جتنا ایل ڈی اے کو ٹھہرایا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے انکشاف کیا کہ واقعے کو دبانے کی کوشش کی گئی اور ہر مرحلے پر غفلت برتی گئی، جو ناقابلِ قبول ہے۔ ایسے واقعات کے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی تاکہ آئندہ کسی شہری کی جان خطرے میں نہ پڑے۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں پالتو شیر رکھنے کی قانونی اجازت ختم، وزیراعلیٰ مریم نواز کا بڑا فیصلہ
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ لاہور واقعے کے ذمہ داروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب میں نااہلی کی کوئی گنجائش نہیں اور ہر شخص کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔














