سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کی نشاندہی کے لیے نیا فیچر متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت ایسی تصاویر کو ترمیم شدہ میڈیا کے لیبل کے ساتھ دکھایا جائے گا۔
ایکس کے مالک ایلون مسک نے اس اقدام کا اشارہ ایک مختصر پوسٹ کے ذریعے دیا، جبکہ پلیٹ فارم کی نئی خصوصیات سامنے لانے والے اکاؤنٹ ڈاج ڈیزائنز کی جانب سے بھی اس حوالے سے اعلان کیا گیا۔ تاہم تاحال ایکس انتظامیہ نے باضابطہ طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ یہ سسٹم کس طرح کام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’واٹس ایپ محفوظ نہیں‘، ایلون مسک کی صارفین کو وارننگ
یہ تفصیل بھی سامنے نہیں آسکی کہ یہ لیبل صرف مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر پر لاگو ہوگا یا روایتی ایڈیٹنگ سافٹ ویئر جیسے فوٹو شاپ کے ذریعے تبدیل کی گئی تصاویر بھی اس میں شامل ہوں گی۔
Edited visuals warning https://t.co/0OIz5PvwSz
— Elon Musk (@elonmusk) January 28, 2026
یاد رہے کہ ری برانڈنگ سے قبل ٹوئٹر میں ایک پالیسی موجود تھی جس کے تحت ایڈیٹ یا تبدیل شدہ میڈیا کو ہٹانے کے بجائے اس پر لیبل لگایا جاتا تھا، جس میں ویڈیو کی رفتار کم کرنا، سب ٹائٹلز میں تبدیلی، آواز شامل کرنا یا تصویر کو کراپ کرنا شامل تھا۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ ایکس اسی پرانی پالیسی کو دوبارہ نافذ کررہا ہے، اسے مصنوعی ذہانت کے تناظر میں تبدیل کیا جارہا ہے یا مکمل طور پر نیا فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی ایلون مسک کے ’گروکی پیڈیا‘ سے استفادہ کرنے لگا
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیچر کے نفاذ پر سوالات برقرار ہیں، کیونکہ ماضی میں غیر مستند یا جعلی میڈیا سے متعلق پالیسیوں پر عملدرآمد یکساں نہیں رہا۔ حالیہ عرصے میں ڈیپ فیک تصاویر سے متعلق معاملات نے بھی ان خدشات کو تقویت دی ہے۔
ایکس کی جانب سے یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ صارفین لیبل پر اعتراض یا اپیل کیسے کر سکیں گے، یا اس حوالے سے صرف کمیونٹی نوٹس پر انحصار کیا جائے گا۔














