انڈیا کے مغربی بنگال میں نیپا وائرس کے 2 تصدیق شدہ کیسز کے بعد عالمی تشویش بڑھ گئی ہے، اور چین سمیت کئی جنوب مشرقی ایشیائی ممالک نے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر سخت صحت کے اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔
انڈیا کی وزارت صحت کے مطابق دونوں کیسز صحت کے کارکنان میں سامنے آئے اور ان سے جڑے 196 رابطے رکھنے والے افراد میں سے تمام کا ٹیسٹ منفی آیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں نیپاہ وائرس کے خطرے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات سخت کردیے گئے
نیپا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، اور انسان سے انسان میں بھی رابطے یا آلودہ کھانے کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔ اس کی شرح اموات 40 سے 75 فیصد کے درمیان ہے، لیکن وائرس کی انسانی رابطے سے پھیلنے کی صلاحیت محدود ہے، جس سے وبا کے پھیلنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں ہے، تاہم آکسفورڈ یونیورسٹی نیپا ویکسین کے کلینیکل ٹرائل کر رہی ہے اور شدید مریضوں کا علاج اینٹی وائرل کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
چین، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ملائشیا اور نیپال نے اپنی بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر نیپا وائرس کے اثرات کے پیش نظر صحت کی جانچ سخت کر دی ہے، جس میں تھرمل اسکیننگ، ہیلتھ ڈیکلریشن فارم اور قرنطینہ کے انتظامات شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت میں نیپا وائرس کی وبا، ایشیائی ایئرپورٹس پر کورونا طرز کی اسکریننگ بحال
عالمی ادارہ صحت WHO اور ماہرین صحت نے عوامی آگاہی، صفائی ستھرائی، بھیڑ سے اجتناب، اور بیمار ہونے پر گھر میں قیام کو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے مؤثر اقدامات قرار دیا ہے۔














