لاہور سیوریج لائن حادثہ: کتنے ترقیاتی منصوبے حفاظتی اقدامات کے بغیر جاری ہیں؟

جمعہ 30 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بدھ کے روز لاہور کی پرندہ مارکیٹ کے قریب سیوریج لائن کے ترقیاتی کام کے دوران ایک خاتون اپنی 10 ماہ کی بیٹی سمیت سیوریج مین ہول میں گر گئیں اور جان کی بازی ہار گئیں۔

اس حادثے کی بنیادی وجہ تعمیراتی کام والی جگہ پر حفاظتی انتظامات کا نہ ہونا اور انتظامیہ کی جانب سے عام لوگوں کو زیر تعمیر منصوبوں سے دور رکھنے میں ناکامی ہے۔

اس واقعے کے بعد متعلقہ منصوبے پر فی الحال کام روک دیا گیا ہے۔ تاہم لاہور میں دیگر بہت سے مقامات پر اس وقت بھی تعمیراتی منصوبے چل رہے ہیں اور وہاں پر حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں اس وقت متعدد ترقیاتی منصوبے تیزی سے جاری ہیں، جن کا مقصد شہر کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، سیوریج اور سڑکوں کی بہتری، اور شہری سہولیات میں اضافہ کرنا ہے۔

یہ منصوبے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے)، واسا، سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ، ٹیپا اور دیگر اداروں کے تحت چل رہے ہیں۔ لاہور میں تمام ترقیاتی کام وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ نگرانی جاری ہیں۔

لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام

لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت شہر میں کئی سو کلومیٹر سیوریج لائنیں بچھائی جا رہی ہیں اور 6,013 سڑکوں اور گلیوں کی بحالی کی جا رہی ہے۔ یہ پروگرام 9 زونز میں تقسیم ہے، جن میں فیز ون (6 زونز) اور فیز ٹو (3 زونز) شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے بھاٹی گیٹ سانحہ قتل کے مترادف قرار، 5 افسران گرفتار، 2 برطرف

ایل ڈی اے کے ذرائع کے مطابق شالیمار زون میں کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ یہ ترقیاتی سرگرمیاں لاہور کے مختلف زونز بشمول شالیمار، سمن آباد، راوی، علامہ اقبال، نشتر، واہگہ، عزیز بھٹی، گلبرگ اور ڈیٹا گنج بخش میں جاری ہیں۔ فیز ون جون 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

داتا دربار کی توسیع اور بھاٹی چوک ری ماڈلنگ

داتا دربار کی توسیع اور بھاٹی چوک کی ری ماڈلنگ کے منصوبے میں پارکنگ ایریاز، پیدل چلنے والوں کے لیے انڈر پاسز، واکنگ فٹ پاتھس اور عمارتوں کی توسیع شامل ہے۔

بھاٹی چوک کی ری ماڈلنگ سے علاقے میں ٹریفک کی روانی اور مجموعی خوبصورتی میں بہتری آئے گی۔ یہ کام لاہور کے مرکزی علاقے داتا دربار اور بھاٹی چوک میں تیزی سے جاری ہے۔

راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ (RUDA)

راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر یو ڈی اے) کا منصوبہ 110,000 ایکڑ پر محیط ہے، جو لاہور اور شیخوپورہ کو آپس میں ملاتا ہے۔ اس میں رہائشی اور کمرشل علاقے، ماسکن ای روِی اور چہار باغ انکلیو شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: ماں اور بچی کے سانحے پر وزیراعلیٰ مریم نواز شدید رنجیدہ، غفلت کے مرتکب کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان

یہ پاکستان کا سب سے بڑا ریور فرنٹ پروجیکٹ ہے، جس کے تحت دریائے راوی کے کنارے لاہور سے شیخوپورہ تک 46 کلومیٹر کے علاقے میں ترقیاتی کام جاری ہے۔

تاریخی مقامات کی بحالی

دیگر اہم منصوبوں میں صدیوں پرانے ٹیکسالی اور دہلی گیٹ کی جدید بحالی شامل ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے سیاحتی مقامات جیسے داتا دربار، بھاٹی گیٹ اور موچی گیٹ کو بہتر بنایا جا رہا ہے، جس سے تاریخی ورثے کے تحفظ کے ساتھ سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔

بھاٹی گیٹ سانحے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس واقعے کو قتل کے مترادف قرار دیتے ہوئے غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے غفلت کا مرتکب ہونے پر پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت 5 افسران کی گرفتاری اور 2 افسران کو ملازمت سے برطرف کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

برطانیہ: جنسی جرائم اور ڈکیتی کے کیسز میں تاریخی اضافہ

اداکارہ علیزے شاہ کا معروف گلوکارہ شازیہ منظور پر بے ایمانی کا الزام

پی ٹی آئی قیادت کی آمد کے پیشِ نظر سپریم کورٹ میں غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات

’تمہاری بہن کو مار رہا ہوں‘، لیڈی پولیس کمانڈو شوہر کے ہاتھوں قتل

برطانیہ چین تعلقات: اسٹارمر کی پیش قدمی، ٹرمپ کی سخت وارننگ

ویڈیو

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

خیبر پختونخوا میں آج بھی جنرل فیض کی ٹیم بیوروکریسی کے اہم عہدوں پر اور صوبے کی کرتا دھرتا ہے، اختیار ولی خان

کالم / تجزیہ

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی