خیبر پختونخوا کے دہشتگردی سے متاثرہ وادی تیراہ سے برف باری کے باعث شدید سردی میں بھی مقامی افراد کی نقل مکانی جاری ہے، اور اب تک 70 فیصد سے زائد آبادی علاقہ چھوڑ چکی ہے۔ قبائلی ضلع خیبر کے ضلعی حکام نے نقل مکانی کرنے والوں کی سہولت کے لیے پوائنٹس قائم کیے ہیں، جہاں رجسٹریشن کے بعد کرایے کی مد میں نقد ادائیگی بھی کی جا رہی ہے۔
اب تک کتنے خاندان نقل مکانی کر چکے ہیں؟
ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے وی نیوز کو بتایا کہ وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والوں کی رجسٹریشن کے لیے تحصیل باڑہ میں پوائنٹس قائم ہیں، جہاں اس وقت بھی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے سے یہ عمل جاری ہے اور اب تک 70 فیصد سے زائد لوگ علاقہ چھوڑ چکے ہیں، جبکہ باقی بھی نقل مکانی کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا نے وادی تیراہ سے عارضی انخلا کی صورتحال بارے قائم مقام صدر کو آگاہ کیا
اعداد و شمار کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اب تک 13 ہزار 725 خاندانوں کی رجسٹریشن ہو چکی ہے جو تیراہ سے نقل مکانی کر کے باڑہ پہنچے ہیں، جبکہ مزید رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔
55 ہزار ماہانہ ادائیگی
انہوں نے بتایا کہ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو کرایے کی مد میں اسی وقت ادائیگی کی جاتی ہے، جو گاڑی کے حساب سے ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو لوگ چھوٹی گاڑی میں آ رہے ہیں، انہیں کرایے کی مد میں 22 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں، جبکہ جن خاندانوں کے افراد زیادہ ہیں اور بڑی گاڑی میں آ رہے ہیں، انہیں کرایے کی مد میں 44 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو 55 ہزار روپے ماہانہ موبائل سم یا بینک کے ذریعے دیے جا رہے ہیں۔
کون سے علاقوں سے نقل مکانی ہو رہی ہے؟
ضلعی انتظامیہ کے مطابق پاک افغان سرحد کے قریب واقع وادی تیراہ میں شدید برف باری ہوئی ہے، جس کے باعث علاقہ شدید سردی کی لپیٹ میں ہے، اور اس کے باوجود 70 فیصد آبادی نقل مکانی کر چکی ہے، جبکہ باقی لوگ بھی نکل رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وادی تیراہ کے علاقوں ملک دین خیل، برقمبر خیل، شلوبر، آدم خیل، زخا خیل، تیراہ میدان، لر باغ اور دیگر علاقوں سے نقل مکانی ہو رہی ہے۔
’لوگ وہاں سے نکل رہے ہیں، تاہم سخت سردی اور برف باری کے باعث کچھ حد تک رفتار میں کمی آئی ہے‘۔














