خطے میں ایران سے جڑی تیزی سے بدلتی صورتحال کے تناظر میں پاکستان نے ایک بار پھر طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارتی ذرائع کو واحد قابلِ عمل راستہ قرار دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں علاقائی امن، سلامتی اور دوطرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ اسلام آباد نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں کسی نئی کشیدگی کے حق میں نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ
انگریزی اخبار میں شائع جمیلہ اچکزئی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر سے گفتگو کے دوران کہا کہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے مسلسل مکالمہ اور سفارتی روابط ناگزیر ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال پر خیالات کا تبادلہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط اور ادارہ جاتی مشاورت کا تسلسل باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔
وزیراعظم نے پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد اور احترام پر قائم ہیں۔ بات چیت میں سیاسی، اقتصادی اور علاقائی تعاون سمیت دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر پیشرفت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
Iran–U.S. Escalation:
Tensions have reached a critical level as President Donald Trump warned Iran that "time is running out" for a new nuclear deal, while a U.S. naval armada moves into the Gulf. Tehran has responded by placing its forces "with fingers on the trigger," and… pic.twitter.com/xemCrZ1qEG— Digital Rebel (@RebelInPower) January 29, 2026
اسی تناظر میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا۔ گفتگو میں خطے کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ کشیدگی کا حل صرف اور صرف بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
دوسری جانب امریکا میں ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات پر غور جاری ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دباؤ بڑھانے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں محدود فوجی کارروائیاں بھی شامل بتائی جا رہی ہیں۔ تاہم متعدد عرب اور مغربی سفارتکاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کسی بھی عسکری اقدام سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ باہمی احترام اور مفادات کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ایران نہ تو تصادم چاہتا ہے اور نہ ہی خطے میں جنگ کو فروغ دینا اس کا مقصد ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور
خطے کے دیگر ممالک بشمول ترکی، روس، مصر اور خلیجی ریاستوں نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مکالمے کی حمایت کی ہے۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ ایران جیسے بڑے اور حساس ملک میں کسی بھی قسم کی بڑی کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
ایران کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف مسلسل یہی رہا ہے کہ مسائل کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات میں ہے، اور اسلام آباد آئندہ بھی خطے میں امن کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔













