بھارت میں دہلی پولیس کی اسپیشل ویپنز اینڈ ٹیکٹکس (SWAT) کمانڈو، 27 سالہ کاجل چودھری کو ان کے شوہر انکور نے شدید تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔ قتل سے قبل انکور نے کاجل کے بھائی نکھل کو فون کیا، جس دوران وہ کاجل پر حملہ کرتا رہا اور دھمکی آمیز الفاظ ادا کرتا رہا۔
نکھل، جو بھارتی دارالحکومت دہلی کی پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں کانسٹیبل کے طور پر تعینات ہیں، نے بتایا کہ 22 جنوری کی رات انہیں اپنے بہنوئی انکور کی کال موصول ہوئی۔
انکور نے کہا ’اپنی بہن کو سمجھا لے‘۔ نکھل نے اسے پرسکون ہونے کو کہا اور فوراً اپنی بہن کو فون کیا۔
یہ بھی پڑھیے شوہر کی موت کے لیے ذائقے دار بریانی کی تیاری، پوسٹ مارٹم نے بیوی کو کیسے پکڑوایا؟
نکھل کے مطابق، کاجل اس دن غیر معمولی طور پر اپنی مشکلات بیان کر رہی تھیں کہ اسی دوران انکور غصے میں آ گیا اور فون چھین لیا۔
نکھل کے بقول بہنوئی نے کہا، ’اس کال کو ریکارڈ پر رکھ، پولیس کے کام آئے گی۔ میں تمہاری بہن کو مار رہا ہوں، پولیس میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی’۔ پھر میں نے اس کی چیخیں سنیں اور کال اچانک منقطع ہو گئی۔
موت کی اطلاع
چند منٹ بعد انکور کی دوبارہ کال آئی۔
نکھل کے مطابق، اس نے کہا، یہ مر گئی ہے، اسپتال آ جاؤ۔
جب وہ پولیس کے ساتھ اسپتال پہنچے تو انکور اور اس کے اہلِ خانہ پہلے سے موجود تھے۔ نکھل نے بتایا کہ میری بہن کی حالت دیکھ کر لگا کہ دشمن بھی کسی کے ساتھ ایسا نہیں کرتا۔
جہیز کے الزامات اور گھریلو تشدد
خاندان کے مطابق، کاجل کو شادی کے بعد سسرال میں جہیز کے لیے ہراساں کیا جاتا رہا۔ ان پر الزام ہے کہ ساس اور 2 نندیں بھی اس عمل میں شامل تھیں۔
کاجل کی والدہ کے مطابق، ان کی بیٹی نے سسرال کے لیے قرض تک لیا، جبکہ انکور نے بھی کاجل کے والدین سے رقم ادھار لی تھی۔
کاجل کے والد راکیش نے الزام عائد کیا کہ شادی کے موقع پر موٹر سائیکل، سونا اور نقد رقم دینے کے باوجود مطالبات ختم نہ ہوئے۔
ان کے مطابق، انہوں نے کہا کہ اگر بیٹا کسی اور سے شادی کرتا تو گاڑی ملتی۔ بعد میں بیٹی نے گاڑی کا انتظام بھی کر دیا، مگر ہراسانی کا سلسلہ نہ رکا۔
حمل کے دوران قتل
فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (FIR) کے مطابق، واقعہ 22 جنوری کی رات 10 سے 10:30 بجے کے درمیان مغربی دہلی کے موہن گارڈن ایکسٹینشن میں پیش آیا۔
4 ماہ کی حاملہ کاجل کو مبینہ طور پر پیچھے سے بھاری ڈمبل سے سر پر ضرب لگائی گئی، جبکہ خاندان نے جسم پر متعدد زخموں کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
کاجل کو غازی آباد کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ 27 جنوری کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔ انکور کو چند گھنٹوں بعد گرفتار کر لیا گیا اور اس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔
کاجل اور انکور کا ڈیڑھ سالہ بیٹا ہے، جو اس وقت نانی نانا کے پاس ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’تیری خاطر بیوی کو قتل کردیا‘، سرجن کا محبوبہ کے نام پیغام
نکھل کے مطابق ’ بچے کو ابھی کچھ معلوم نہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ہی اس کی پرورش کریں گے اور جب وہ سمجھنے کے قابل ہوگا تب حقیقت بتائیں گے۔‘
پہلے بھی تشدد کے واقعات
نکھل نے بتایا کہ تقریباً 5 ماہ قبل بھی انکور نے کاجل کو تھپڑ مارا تھا۔
’میں اسے واپس لے جانا چاہتا تھا، مگر انکور نے معافی مانگی اور قسم کھائی کہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا۔ میں نے بہن سے کہا تھا کہ جب چاہے گھر آ سکتی ہے۔‘
ان کے مطابق، حمل کے باوجود کاجل سے گھر کے تمام کام کروائے جاتے تھے، جن میں کھانا پکانا، کپڑے اور برتن دھونا شامل تھا۔
کاجل اور انکور کی ملاقات پانی پت کے ایک کالج میں ہوئی تھی۔ دونوں نے 23 نومبر 2023 کو شادی کی۔
ہریانہ کے علاقے گنّور میں تنازعات کے بعد دونوں نے دسمبر 2024 میں موہن گارڈن، دہلی میں کرائے کے مکان میں رہائش اختیار کی، تاہم کشیدگی برقرار رہی۔













