ریاض میں کنگ عبدالعزیز سٹی برائے سائنس اور ٹیکنالوجی (KACST) نے سعودی سائنسدان عمر یغی کو 2025 کے کیمسٹری نوبل انعام کے موقع پر اعزازی تقریب کے ذریعے خراجِ تحسین پیش کیا۔ عمر یغی سعودی عرب کے پہلے سائنسدان ہیں جنہیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کے الباحہ ریجن میں ونٹر کیمپس کی دھوم، سماجی تقریبات کے لیے مقبول مقام بن گئے
ریاض میں منعقدہ تقریب میں عمر یغی نے اپنی تحقیق اور کارناموں پر روشنی ڈالی، جس میں مالیکیولر کیمسٹری کے میدان میں انقلابی کام، توانائی، ماحول اور جدید مواد کے شعبوں میں نمایاں خدمات شامل ہیں۔ انہوں نے KACST اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے درمیان قائم سن کلین انرجی کے لیے نانو میٹریلز سینٹر آف ایکسیلنس کی قیادت بھی کی۔

KACST کے صدر منیر الدسوقی نے کہا کہ سعودی عرب اپنی سائنسی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے پرعزم ہے، جس کا مقصد سعودی وژن 2030 کے تحت سائنسی تحقیق کو فروغ دینا ہے۔عمر یغی نے سعودی قیادت کے تعاون اور سائنسدانوں کے لیے سازگار ماحول کی تعریف کی اور کہا کہ قومی سرمایہ کاری نے ملک کو سائنسی تحقیق میں نمایاں مقام دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب: اسکول کے 500 طلبہ کی کتابیں بیک وقت شائع، گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم
تقریب میں KACST کے عملے اور طلبہ نے شرکت کی، اور حالیہ ’GenAI for Materials Discovery Hackathon‘ کی کامیاب ٹیموں کو بھی اعزاز دیا گیا، جسے KACST نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے اور سعودی غیر منافع بخش تنظیم Academy 32 کے ساتھ شراکت میں منعقد کیا تھا۔

تقریب کا اختتام ایک انٹرایکٹو ڈسکشن سیشن پر ہوا، جس میں عمر یغی نے طلبہ اور محققین کے ساتھ اپنے سائنسی سفر کے اہم مراحل، تجربات اور کامیابی کے عوامل پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے زور دیا کہ سعودی عرب میں تحقیق، ترقی اور جدید اختراعات کے لیے سازگار ماحول نے سائنسدانوں کو عالمی معیار کی تحقیق کرنے کی ترغیب دی ہے۔












