پاکستان کے معروف فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے واقعے کے حوالے سے تشویش اور شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
فیصل ایدھی نے کہا کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو شکوک پیدا کرتی ہیں۔ میں نے درجنوں بار آگ لگتے دیکھی ہے، پلاسٹک مارکیٹ میں 3 بار آگ لگی اور کئی دن تک بھی آگ لگی رہی لیکن عمارتیں نہیں گریں، تو گل پلازہ کی عمارت کیسے گر گئی؟
“I believe there is a mafia involved that wants to vacate and take control of the building. This matter should be investigated transparently,” said social worker Faisal Edhi.#TOKReports #KarachiFire #GulPlaza pic.twitter.com/c3Kzbuwp7V
— Times of Karachi (@TOKCityOfLights) January 29, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس کے پیچھے مافیا ہو سکتا ہے جو عمارت کو خالی کر کے اس پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ آگ کبھی بھی اسٹرکچر کو تباہ نہیں کرتی، اس میں کافی چیزیں شکوک پیدا کر رہی ہیں۔ عمارت ایک نہیں 3 مختلف مقامات سے گری جو مزید شبہات کو جنم دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لوہا 1600 ڈگری پر پگھلتا ہے اور گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے لوہا میلٹ نہیں ہو سکتا تھا اس لیے جوڈیشل انکوائری ضروری ہے۔ یہ انکوائری کسی اچھے جج کی سربراہی میں ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے مطابق آگ کا آغاز دکان نمبر 193، گراؤنڈ فلور میں ماچس سے ہوا، تفصیلی رپورٹ جاری
واضح رہے کہ گل پلازہ میں 17 جنوری کی رات 10 بج کر 15 منٹ پر آگ لگ گئی، جس نے پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس واقعے کے وقت عمارت میں آگ بجھانے کے موثر انتظامات موجود نہیں تھے۔ کئی دروازے بند تھے، ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں تھا اور بجلی منقطع ہو گئی تھی جس کی وجہ سے لوگوں کو باہر نکلنے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔
کمشنر کراچی کی جانب سے تیار کی گئی حتمی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کی آگ کے نتیجے میں 79 افراد جاں بحق ہوئے جن میں زیادہ تر اموات میزنائن فلور پر ہوئی ہیں۔













